پرتگال اور پاکستان تصادم کے مقابلے میں مکالمے کے بنیادی عقیدے پر کاربند ہیں، پرتگالی سفیر

1

اسلام آباد،17 جون ( اے پی پی): پرتگال کے قومی دن کے موقع پر سفارت خانے کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں پرتگال کے سفیر پاؤلو میگل گیڈس ڈومنگوز نے کہا کہ پرتگال اور پاکستان اس بنیادی عقیدے پر کاربند ہیں کہ تصادم کے مقابلے میں مکالمہ ہمیشہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور انہوں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو بھی شریک تھے۔ اس موقع پر سفارتی کور کے ارکان، اعلیٰ سرکاری حکام، مسلح افواج کے نمائندے، کاروباری رہنما، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

سفیر نے کہا کہ پرتگال اور پاکستان 76 سالہ دوستی، مکالمے اور باہمی احترام کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اور جغرافیائی دوری کے باوجود دونوں ممالک کے مفادات تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو دوستی، مواقع، جدت اور مشترکہ عزائم کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور ہماری شراکت داری دن بہ دن مضبوط ہو رہی ہے۔

سفیر ڈومنگوز نے کہا  کہ سیاسی مکالمے میں تیزی آ رہی ہے، اقتصادی تعاون بڑھ رہا ہے، تعلیمی تبادلے بڑھ رہے ہیں اور عوامی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سفیر نے کہا کہ اس وقت تقریباً 50,000 پاکستانی پرتگال میں مقیم ہیں جو تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری کے ذریعے پرتگالی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کو دل سے سراہا جاتا ہے، اور وہ ہماری دونوں قوموں کے درمیان دوستی کے سب سے مضبوط سفیر ہیں۔

سفیر نے سال 2027-2028ء کی مدت کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے پرتگال کی نامزدگی کی حمایت کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوستی اور اعتماد کے اس جذبے کو دل سے سراہتے ہیں اور اقوامِ متحدہ اور اس سے آگے بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

موجودہ عالمی صورتحال، جو تنازعات اور جیو پولیٹیکل تناؤ کا  کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر ڈومنگوز نے سفارت کاری اور پُرامن روابط کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا کو ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو پل بنانے، مکالمے کو آسان بنانے اور پُرامن حل کو فروغ دینے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے پیچیدہ علاقائی ماحول میں مکالمے کے فروغ اور امن کی کوششوں کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک رابطے کے ذرائع پیدا کرتے ہیں وہ بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم خدمت انجام دیتے ہیں۔