اسلام آباد، 18 جون ( اے پی پی ): وفاقی وزیر قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کو مل کر اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں جن پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
چائلڈ لیبر سروے کے اجراء کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور وزارت انسانی حقوق کو سروے کی تکمیل پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل مگر ضروری مشق تھی جس نے قوم کے سامنے بچوں سے مشقت کی حقیقی اور تشویشناک تصویر رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سروے کے اعداد و شمار تکلیف دہ ضرور ہیں تاہم ان کا مقصد مسئلے کی نشاندہی کرنا اور عملی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ان کے بقول ترقی پذیر ممالک میں حکومتی وسائل اور صلاحیتوں کی اپنی حدود ہیں، لیکن اگر حکومت اور عوام مل کر سماجی مسائل کے حل کے لیے کام کریں تو مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشرے میں بچوں سے مشقت کو بعض اوقات معمول سمجھ لیا جاتا ہے، خصوصاً گھریلو ملازمتوں کے معاملے میں جہاں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بچوں کی زندگی بہتر ہو رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہر بچے کو تعلیم، بہتر مستقبل اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے سب سے سنگین مسئلہ جبری مشقت ہے جو نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ چائلڈ لیبر سمیت کئی سماجی مسائل کی جڑ ہے۔
جب تک آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا نہیں کیا جاتا، غربت اور بچوں کے استحصال جیسے مسائل برقرار رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو محض آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ مکمل حقوق رکھنے والے انسان سمجھنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کو صرف آبادی کے بجائے دیگر اشاریوں سے بھی منسلک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جن میں تعلیم، صحت، غربت کی شرح، رقبہ اور قومی معیشت میں صوبوں کا کردار شامل ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سیاسی قیادت کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور آبادی کے مسئلے کے حل کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آج درست بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں تو آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر ممکن ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد ایسے بچوں کی مدد کریں جو تعلیم اور بہتر زندگی کے مواقع سے محروم ہیں، کیونکہ معاشرتی تبدیلی حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
اسلام آباد، 18 جون ( اے پی پی ): وفاقی وزیر قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کو مل کر اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں جن پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
چائلڈ لیبر سروے کے اجراء کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور وزارت انسانی حقوق کو سروے کی تکمیل پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل مگر ضروری مشق تھی جس نے قوم کے سامنے بچوں سے مشقت کی حقیقی اور تشویشناک تصویر رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سروے کے اعداد و شمار تکلیف دہ ضرور ہیں تاہم ان کا مقصد مسئلے کی نشاندہی کرنا اور عملی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ان کے بقول ترقی پذیر ممالک میں حکومتی وسائل اور صلاحیتوں کی اپنی حدود ہیں، لیکن اگر حکومت اور عوام مل کر سماجی مسائل کے حل کے لیے کام کریں تو مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشرے میں بچوں سے مشقت کو بعض اوقات معمول سمجھ لیا جاتا ہے، خصوصاً گھریلو ملازمتوں کے معاملے میں جہاں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بچوں کی زندگی بہتر ہو رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہر بچے کو تعلیم، بہتر مستقبل اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے سب سے سنگین مسئلہ جبری مشقت ہے جو نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ چائلڈ لیبر سمیت کئی سماجی مسائل کی جڑ ہے۔
جب تک آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا نہیں کیا جاتا، غربت اور بچوں کے استحصال جیسے مسائل برقرار رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو محض آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ مکمل حقوق رکھنے والے انسان سمجھنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کو صرف آبادی کے بجائے دیگر اشاریوں سے بھی منسلک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جن میں تعلیم، صحت، غربت کی شرح، رقبہ اور قومی معیشت میں صوبوں کا کردار شامل ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سیاسی قیادت کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور آبادی کے مسئلے کے حل کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آج درست بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں تو آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر ممکن ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد ایسے بچوں کی مدد کریں جو تعلیم اور بہتر زندگی کے مواقع سے محروم ہیں، کیونکہ معاشرتی تبدیلی حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔











