کوئٹہ۔ 17 جون (اے پی پی):بلوچستان کے نئے مالی سال 2026-27کا 1089ارب کا ٹیکس فری و سرپلس بجٹ پیش کردیاگیا،ترقیاتی مد میں206ارب جبکہ غیرترقیاتی مد میں797ارب روپے مختص کئے گئے ،ملازمین کی تنخواہوں وپنشن میں7فیصد اضافہ اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع کیلئے 5ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی،بجٹ میں صحت ،تعلیم اور امن وامان سمیت روزگار پر خصوصی توجہ دی گئی ،صحت کے غیرترقیاتی بجٹ 71ارب سے 90ارب اور محکمہ تعلیم وہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 125ارب سے 144ارب روپے تک بڑھا دیاگیا۔نئے مالی سال کے دوران صوبائی آمدنی کو 170ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف تجویز کیاگیاہے ۔بدھ کوبلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میرشعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے یہ بجٹ ایسے وقت میں تیار کیاہے جب عالمی سطح پربڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مشکل حالات میں ہم نے کفایت شعاری، غیر ضروری اخراجات اور سرکاری مراعات میںکمی کو یقینی بنایا تاکہ مالی بحران کو قابو کیا جائے۔اِن درپیش چیلنجز کے باوجود اس بجٹ میں ہماری ترجیحات تعلیم، صحت اور امن و امان ہیں جس کے لیے ہم نے کئی بجٹ اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔میں اس ایوان کے توسط سے صوبے کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ بجٹ ترقی اور خوشحالی فراہم کرنے کی دستاویز ہے۔مو جودہ صوبا ئی حکو مت کے قیام کو تقر یباً سوا دو سال ہو نے کو ہیںتاہم اِس دوران اتحا دی جما عتوں اور وزیر اعلیٰ بلوچستا ن جناب میر سرفراز بگٹی کی قیا دت میںحکومت نے بہترکارکردگی سے اہم کا میا بیا ں حاصل کر کے ایک نئی تا ر یخ رقم کی ہے جس کے لیے میں اﷲتعا لیٰ کا مشکور ہوں۔موجودہ حکو مت نے بھر پور کو شش کی کہ حکومتی وسا ئل کو مدِنظر رکھتے ہوئے صوبے کے مالی نظم و ضبط اور ترقیاتی عمل کو ترجیح دے کر عو ام کی خدمت اورصوبے کی تر قی و خوشحا لی کے حصول کو ممکن بنایاجا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جناب میر سرفراز بگٹی کی قیا دت میںحکومتِ بلوچستان ایک جمہوری اور سیاسی تصور کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے درست سمت کی جانب گامزن ہے۔ یہ وزیرِاعلیٰ کی قا ئدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے کہ بلو چستان وسیع ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مشا ہدہ صو بے کی عوام خود کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے عوام دوست وژن کے مطا بق صو بائی حکومت نے جو بھی فیصلے کیے ہیں اِن پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود نہیںبلکہ عملی طور پر زمین پر نظر آرہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے بلوچستان کے مالی مسائل اور ترقیاتی عمل سے متعلق وفاقی حکو مت کے سامنے صوبے کا موقف بھر پور طور پر اٹھایا ہے تاکہ بلو چستان کو اس کے جائز حقوق مل سکیں۔وزیر اعلیٰ نے ہمیشہ اپنے عمل سے عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھنے کے تا ثر کو بڑھا وا دیا ہے۔اِس میں دورائے نہیں کہ اِس حکومت کے دور میں وزیر اعلیٰ کی قیادت میں کابینہ نے دوررس نتائج پر مبنی ایسے فیصلے کیے جن کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیا دت میںصوبائی حکومت کا ایک اور وعدہ مکمل ہوا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے رواںمالی سال2025-26 کامختص شدہ ترقیاتی فنڈز کا 115% فیصد حصہ اِستعمال کیا ہے جو کہ صوبے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر استعمال شدہ فنڈزہیں ، پچھلے مالی سالوں میں اِن فنڈز کا اِستعمال کم رہا یعنی مالی سالوں 2021-22 میں53فیصد، 2022-23میں 66فیصد، 2023-24میں 55فیصداور2024-25میں99فیصدفنڈزاستعمال ہوئے۔اِن ترقیاتی فنڈزکے موئثر اور بروقت اِستعمال میں وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی صاحب کی رہنمائی اور سخت ما نیٹرنگ بھی رہی جس سے یہ کامیابی موجودہ صوبائی حکومت کو حاصل ہوئی یعنی ماضی کے سالوں کے مقابلے میں اِس سال کے ترقیاتی فنڈز کے بروقت استعمال سے بلوچستان کے تر قیاتی کاموں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ہماری موجودہ حکومت کی یہ کارکردگی تاریخ کے روشن باب کی طرح ہے۔گورننس میں بہتری لانے کے لیے حکومتی اِقدامات کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اور اِن ترقیاتی اِسکیمات کی بر وقت تکمیل سے صوبے کی ترقی میں شفا فیت اور میرٹ نما یاں ہوئے۔رواں مالی سال کے دوران 2966جاری اور نئی ترقیا تی اسکیمات اس سال کے آخر تک مکمل ہوںگی۔ رواں مالیاتی سال کی پی ایس ڈی پی2025-26 میں شا مل 57بلین فنڈز سڑکوںکی تعمیر، 20بلین آب پاشی،9بلین توانائی،20بلین تعلیم،16بلین صحت اور 35بلین سوشل پروٹیکشن کے لیے مختص کیے تھے۔اِن میں پیداواری شعبوں کو مجموعی طور7بلین بجٹ مختص کیا گیا جن میں زراعت،معدنیات اور ماہی گیری شامل ہیں۔رواں مالی سال میں249 بلین کا صوبائی پی ایس ڈی پی پیش کیا گیا ہے جو قومی و عالمی ترقیاتی اہداف (SDGs)سے ہم آہنگ تھا۔ گرین پاکستان انیشیٹو(Green Pakistan Initiative) جس کے تحت جنوبی بلوچستان کے 21,000 ایکڑ زمین سولر ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب ہو رہی ہے اور 513خاندانوں میں 1.9بلین کے قرضے تقسیم کیے گئے جو ایک سبز اور خوشحال بلوچستان کی ضمانت ہے۔رواں مالی سال2025-26 کے دوران محکمہ فنانس نے بلوچستان کی تاریخ میں ایک نیاباب رقم کر دیا ہے۔روایتی نظام کو تبدیل کر کے ڈیجیٹل اصلاحات کا نفاذ کروایاہے جس میں پنشن آٹومیشن(Pension Automation)، کیش لیس اکانومی (Cash Less Economy)،آن لائن بلنگ سسٹم(Online Billing System) ، فنانس منجمنٹ انفارمیشن سسٹم (FMIS) اور فنانس جی پی ٹی (Finance GPT) جیسے انقلابی اقدامات شامل ہیں جو صوبے کے مالی نظام کو تیز اور گھر بیٹھے لین دین کی سہولیات کو آسان بنائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فنانس نے بلوچستان میں پہلی بارایک ہی دن میں(Only One Day) میرٹ پر ریکروٹمنٹ کے لیےAI Recruitment متعارف کروائی جس سے بھرتیاںسفارش کے بجائے صرف میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر ہوچکی ہیں۔یہ صرف تکنیکی تبدیلی نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی اور نئے نظام کی تعمیر ہے۔ ہماری حکو مت قائم ہونے کے بعد ہمیں سب سے بڑا چیلنج صوبے کے کم و سائل میںصوبائی ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمدکرانا تھا ۔تا ہم ہم نے غیر ترقیاتی اخراجات کو ہر ممکن حد تک کم کیاتاکہ ہم ترقیاتی اسکیموں کے لئے وسائل فراہم کر سکیں۔مالی مشکلات کے باوجود صوبائی حکو مت نے آنے والے مالی سال کے لئے ایک متوازن بجٹ بنایا ہے اور تمام شعبہ جات کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق فنڈز مختص کیے ہیں۔ہماری حکومت نے اپنے دورِحکو مت میں ترقیاتی مد میںصوبے کی تاریخ کے سب سے زیادہ فنڈ ز کا اِجراء کیا اور بھر پور کوشش کی کہ صوبے کے تمام اِضلاع کو برابر اور بلا تفریق ترقیاتی عمل میں شامل رکھا جائے۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ صوبے بھر کے 3000سرکاری سکولز میں 2اضافی کمروں کی تعمیر کے ذریعے تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا گیا۔اس اقدام سے سکول سے باہر طلبہ کی تعداد میں ملک بھر سے بلوچستان میں سب سے زیادہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے 164 غیر فعالBHUs کو فعال بنانے کے لئے 2بلین مختص کئے گئے جس کے ذریعے صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا گیا۔بلوچستان ایجوکیشن فائونڈیشن (Balochistan Education Foundation)کے ذریعے صوبے بھر میں 1200 سکولز فعال کرنے کے لیے 2.5 بلین روپے جاری کئے گئے جس سے کمیونٹی سکول(Community School) کے نیٹورک کو وسیع کیا گیا۔عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِکار بڑھانے کے لئے PIFTACمنصوبے کے لئے 500ملین روپے دیے گئے۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران سکولز اور کالجز میں فائبر آپٹکس(Fiber Optics) کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ طلبہ و طالبات کو تیز انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل تعلیم میسر آسکے۔حکومتِ بلوچستان کا ایک اورمنصوبہ BLZپراجیکٹ ہے جو Baryte, Lead, Zinc کے ذخائر کی تلاش و فراہمی کے لیے بہت اہم منصوبہ ہے جس کے لئے آئندہ سال میں700 ملین مختص کئے گئے ہیں۔بجلی سے محروم علاقوں میںمائکرو گرڈ (Micro Grid)منصوبوں کے ذریعے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔نوکنڈی انڈسٹریل سٹیٹ میں200 ملین سے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔نوجوانوں کی فنی تعلیم اورہنر مندی کے فروغ کے لیے بی۔ٹیوٹا(B-TEVTA) کو5بلین کی گرانٹ جاری کی گئی جس سے نوجوانوں کی استعدادِکار اور ملازمت کا بہتر انتظام کیا جائے گا۔پیپلز ٹرین سروس(People’s Train Service) کا بھی جلد آغاز کیا جائے گا۔بلوچستان ا سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI)کے لئے40 بلین مختص کئے گئے جو بلوچستان کا ایک نمایاں اقدام ہے جس کا مقصد سماجی و معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔اس اقدام کے بنیادی سطح پر کافی پزیرائی ملی ہے جس سے لوگوں کے مسائل انتہائی نچلی سطح پر حل ہو رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2026-27میں سیف سٹیز (Safe Cities) کے قیام کے لئے محکمہ پولیس کو مختلف منصوبے دیے گئے ہیں جن سے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا.صوبے کے تمام یونین کونسلزمیں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے جامعہ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔تمام اضلاع میں پھل،سبزی،غلہ، مویشی منڈیوں اور بس ٹرمینلز کی جدیدسہولیات فراہم کی جائیں گی۔عوامی شکایات کے بر وقت ازالے کیلئے Grievance Redressal Systemقائم کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال 2026-27کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہو گا کہ موجودہ مالی سال2025-26کے نظر ثانی شدہ بجٹ کا مختصر جائزہ معزز ایوان کے سامنے پیش کروںجس کے بعد میں معززایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے اٹھائے گئے نئے مالی سال2026-27کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کروںگا۔انہوں نے کہاکہ صوبائی آمدن،وفاقی ترسیلات Federal Transfersاور صوبائی محصولات پر مشتمل ہے اور بلوچستان کا زیادہ تر اِنحصار وفاقی ترسیلات پر ہیں اور یہی ہمارے معاشی و مالی وسائل کا بنیادی حصہ بھی ہے جس میں NFCایوارڈ کے تحت طے شدہ فارمولے کے مطابق Divisible Pool اور براہِ راست ٹرانسفرز وغیرہ بھی شامل ہیں۔رواں مالی سال2025-26 کے کل بجٹ کا غیر ترقیاتی تخمینہ639 بلین تھا۔ نظر ثانی بجٹ برائے سال2025-26 کا تخمینہ629.9 بلین روپے ہے۔رواں مالی سال2025-26 کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ249 بلین روپے تھا جس میں جاری ترقیاتی اسکیمات کے لیے113.53 بلین روپے جبکہ نئی ترقیاتی اسکیمات کے لیے135.92 بلین روپے جاری کیے گئے تھے۔جبکہ نظر ثانی شدہ تخمینہ بڑھ کر 287 بلین روپے ہو گیا ہے۔رواں مالی سال2025-26 میں نئی ریگولراور کنٹریکٹ آسامیوں کی مد میں تمام صوبائی سرکاری محکموں میں 6146 آسامیاں تخلیق کی گئیں تھیں۔جن پر اکثر محکموں میں میرٹ پر تعیناتیاںعمل میں لائی گئی اور کچھ محکموں میں اِن خالی آسامیوں پر بھر تیوں کا عمل جاری ہے۔رواںسال صوبے کی کل آمدن886بلین روپے رہی جس میں صوبے کے اپنے ذرائع سینظر ثانی شدہ تخمینہ 82 بلین روپے ہے جبکہ جاری اخراجات کا نظر ثانی شدہ تخمینہ629.9بلین روپے ہے۔رواں مالی سال 2025-26کے دوران Capital Expenditure کی مد میں مشینری اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے1 6.4 بلین روپے اور نظر ثانی شدہ تخمینہ12.7 بلین روپے ہے اور محکموں کو گرانٹس کی مد میں116.6 بلین روپے رکھے گئے تھے جس کا نظر ثانی شدہ تخمینہ149 بلین روپے ہے۔انہوں نے کہاکہبجٹ برائے مالی سال2026-27 میں حکومت کے اقدامات میں صوبے کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں یکساں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری ، ہنگامی صورتحال میں پیشگی اِقدامات اٹھانے اور جدت پر مبنی اصلاحات متعارف کروانے، سوشل سیکٹر کو مضبوط بنانے، صوبے کے اپنے پیداواری شعبوں سے مزید بہرہ مند ہونے، سما جی تحفظ کے لئے اِقدامات کو و سعت دینے سمیت روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے اور امن وامان کی مکمل بحالی شامل ہیں۔غرض یہ کہ معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ نہیں ہے جس کی فلاح و بہبود کے لئے اِقدامات نہ اٹھائے گئے ہوں۔ اِن اقدامات میں سرکاری ملازمین ، خواتین، پنشنرز، نوجوان، ماہی گیر، مزدور سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شا مل ہیں۔اب میں اِس معزز ایوان کے سا منے آئندہ مالی سال 2026-27کے بجٹ کے مختصر اور بنیادی خدوخال پیش کرنا چاہوں گا۔آئندہ مالی سال2026-27 کا کل اخراجات بجٹ تخمینہ 1089بلین روپے ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 797بلین روپے ہے جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ(PSDP) کا حجم 206بلین روپے ہے جس میں نئے اسکیمات کے لئے106 بلین اورجاری اسکیمات کے لئے 100بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ فیڈرل ڈویلپمنت گرانٹس (Federal Funded Projects)کی مد میں45بلین روپے اور فارن پروجیکٹ اسسٹنس(FPA) کی مد میں40بلین روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہیں۔ اس طرح یہ بجٹ ہمارے صوبے کا سرپلس بجٹ ہے ۔صوبائی آمدنی میںبھی بہتری لائی جا رہی ہے جس کے تحت صوبائی آمدنی کو 170 بلین روپے تک پہنچا دیا جائے گا۔صوبے میں جاری اخراجات کو انتہائی ضروریات کے مطابق محدود رکھا گیاہے تاکہ صوبائی وسائل کو اہم ترقیاتی اور ترجیحی منصوبوں پر صرف کیا جا سکے۔وفاق کے تعاون سے مختلف اضلاع میں ڈیمز کی تعمیرجاری ہے جن میں آواران ڈیم، گشکور ڈیم کیچ ، مراتنگئی ڈیم لورالائی وغیرہ شامل ہیں جو کہ آئندہ سالوں میں تکمیل پذیر ہوں گے۔اسی طرح درگئی شبوزئی سے تونسہ شریف روڈ کی تعمیر،دُکی سے چمالنگ روڈ کی تعمیر،پنجگور گچک گوادر روڈکی تعمیر اور سوئی سے کشمور روڈکی تعمیر بھی شامل ہے۔ بیرونی محاصل (Foreign Receipts)کے تحت صوبے میں چند بڑے پراجیکٹ درج ذیل ہیںجس کے مطابق گوادر لسبیلہ لائیولیہوڈ سپورٹ پراجیکٹ(GLLSP) Rehabilitationاورری ماڈلنگ آف لسبیلہ کینال،10 سیلاب سے متاثرہ پولیس اسٹیشنز کا از سرِنو تعمیر،پسنی میں50 بیڈڈ ہسپتال کی تعمیر،آواران میں گھروں کی تعمیر، Integrated Flood Resilience and Adaptation Project (IFRAP)، بلوچستان واٹر ریسورس ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ (BWRDP)، انفراسٹرکچر اپگریڈیشن آف سکول ایجوکیشن سیکٹر گوادر(IUSE Gwadar)،Emergency Flood Assistance Program(EFAP) ،Getting Results Access and Delivery of Quality Education Services Balochistan (GRADES-B)شامل ہیں،انہوں نے کہاکہحکومتِ بلوچستان پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بولان انشورنس کمپنی لمیٹڈ(BICL)قائم کر چکی ہے جس کے ذریعے صوبے میں تمام سرکاری املاک، حادثات، قدرتی آفات، صحت اور دیگر منصوبوں کو بیمہ(انشور) کیا جائے گا۔ اس اقدام سے کسی بھی قسم کے مالی نقصان کا ازالہ صوبائی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ممکن بنایا جا سکے گا۔ زرعی شعبے کی بہتری اورسستیتوانائی کی فراہمی کے لئے ٹیوب ویلز کی سو لرائزیشن کے منصوبے کے لئے 3.8بلین مختص کیے گئے ہیں۔ بینک آف بلوچستان کے قیام کے لئے 10 بلین روپے مختص ہیں۔بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے لیے 3 بلین رکھے گئے ہیںجس میں 2بلین روپے کمپنی واپس کرے گی۔ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے ماسٹر پلان کے لئے 3بلین مختص کئے گئے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور ڈیزائن کی بہتری کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (Third Party Validation)کا قیام۔ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن کاروبار کے فروغ کے لیے ای کامرس سینٹرز(E-Commerce Centers) کا قیام۔ معدنی وسائل کے فروغ اور سرمایہ کاری کے موقع بڑھانے کے لئے490ملین مختص۔ ثقافت اور آثارِقدیمہ کے فروغ کے لیے85 ملین مختص کیے گئے ہیں۔ عوامی شکایات کے ازالے کے مربوط نظام جو کہ تحصیل کی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک ہو گا۔بلوچستان میں ریوینیو کی دستی طریقے(Manual Method) سے وصولی کے باعث ایک جانب عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا،جبکہ دوسری جانب حکومت کو بھی ریوینیو میں نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اب تمام سرکاری محصولات اور ٹیکسوں کی وصولی بلوچستان ای۔پے(Balochistan E-Pay) کے ذریعے لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین ملک کے کسی بھی حصے سے بیٹھ کر اپنے ٹیکس اور فیسیں آن لائن جمع کرا سکیں گے، جبکہ وصول شدہ رقم فوری طور پر براہِ راست سرکاری اکائونٹ نمبر 1 میں منتقل ہو جائے گی۔ اس اقدام سے شفافیت، سہولت اور ریوینیو وصولی کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہو گا۔مزید برآں ہماری صوبائی حکومت نے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے یعنی(SDGs) Sustainable Development Goals کے تحت مالی سال 2026-27 کے لئے قا بلِ ذکر منصوبے اور ترقیاتی اسکیمات رکھے گئے ہیں جس کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال2026-27 کے لئے جامع ترقیاتی وژن تشکیل دیا ہے جس میں معیشت ،تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے نظام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جس میںڈیمز، سڑکیں، صنعتی زون، ٹرمینلز، ریل کے منصوبے، روزگار و معیشت کی فراوانی، مائیکرو فنانس اور زراعت وغیرہ شامل ہیں۔نئے مالی سال 2026-27میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مجموعی طورپر5000 نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جا رہی ہیں۔جس میں 3000سکول ایجوکیشن ، 500محکمہ صحت، 1000آسامیاں نئے اضلاع اور500آسامیاں مختلف محکموں کے لیے ہیں۔10 بلین اثاثہ جات کی خریداری بلخصوص آئی ٹی آلات کے لیے تجویز کیے گئے ہیں جو کہ پچھلے سال کی نسبت70 فیصد زیادہ ہے۔ محکمہ فنانس کے اِس سال کے بجٹ اصلاحات کا قیام صوبے کی تاریخ میں پہلا قدم ہے۔جس میںZero Based Budgeting کے ذریعیغیر ضروری ما لی اخراجات کو روکا گیا جو کہ صوبے کے لیے انقلابی اقدام ہے۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں ہم نے اپنے بجٹ میںپہلی بار کلائمیٹ اور جینڈر ٹییگنگ(Climate and Gender Tagging) کو شامل کیا ہے جو ایک اہم اور جدید قدم ہے جس کے زریعے ترقیاتی منصوبوں کو ماحول دوست بنایا جا سکے گا اور وسائل کی تقسیم براہِ راست خواتین کی فلاح و بہبود اور معاشی خود مختاری پر ہو گی۔ انہوں نے کہاکہصحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صحت کا بہتر نظام لوگوں کے معیارِزندگی اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مختلف بیماریوں کی روک تھام ، علاج معالجہ اور فروغِ صحت کے حوالے سے اِقدامات کرنا، پبلک سیکٹر میں اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے اِسی لیے شعبہء صحت ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔کو ئٹہ میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے نیو ٹراما سنٹر کے اخراجات کے لئے 1.3 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان ہیلتھ کارڈکے لیے گرانٹ4.5 بلین سے بڑھا کر6.0 بلین کر دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دورانPPHI کی گرانٹ 7.6بلین سے بڑھاکر8.8 بلین کر دی گئی ہے۔ادویات کی مد میں 6.9بلین سے بڑھا کر 8.5بلین کر کے 23 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ضلع کیچ میں تھیلیسمیا سنٹر کے قیام کے لیے 10ملین روپے اسی طرح گوادر میں تھیلیسمیا سینٹر کے لئے بھی 9ملین مختص کیے گئے ہیں۔ شیخ زید بِن النعیا ن انسیٹیوٹ آف کارڈیولوجی کی موجودہ گرانٹ 2.2بلین سے بڑھا کر2.8 بلین کی گئی ہے۔ PGsاورHOs کے لیے 1.1بلین مختص کیے گئے ہیں۔ضلع مستونگ کے نواب غوث بخش رئیسانی میمو ریل ہسپتال کے گرانٹ کو 400ملین سے بڑھا کر 735ملین کیا گیا ہے۔ برن یونٹ کوئٹہ کے لئے 400ملین مختص کئے گئے ہیں۔پرنس فہد ہسپتال دالبندین کے لیے 400ملین محتص کئے ہیں۔ پسنیکے پاک عمان ہسپتال میں عوام کو طبی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے گرانٹ 200ملین سے بڑھا 279 ملین کئے گئے ہیں۔بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کے لئے1.5 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جوغذائی قلت کو ختم کرنے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ صحت کے لئے500 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر مالی سال2026-27 میں محکمہ صحت کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں6 بلین اور غیر ترقیاتی بجٹ بغیر اثاثہ جات کے 90بلین مختص کیے گئے ہیںجوپچھلے سال 71بلین تھا اور اب 30 فیصد بڑھادیا گیاہے۔اسی طرححکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سرفہر ست ہے۔ حکومتِ بلوچستان پورے صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں ہر سال صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے مختص ہوتاہے۔ جس کا مقصد بلوچستان میں سب کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔حکومتِ بلوچستان عوام کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔حکومتِ بلوچستان نے محکمہ تعلیم بشمول ہایئر ایجوکیشن کا مجموعی بجٹ اثاثہ جا ت کے بغیر 125 بلین سے بڑھا کر144 بلین مختص کر کے 15%فیصد کا اضافہ کیا ہے جس میں115 بلین سکول ایجوکیشن کے لیے مختص ہیں۔ آئندہ مالی سال 2026-27میں ہماری صوبائی حکومت نے درج ذیل منصوبے تجویز کیے ہیں جس کے مطابق آئندہ مالی سال میںشعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے مختلف اضلاع کے سکولز کے لیے ون ٹائم گرانٹس(one Time Grants) جاری کیے ہیں جن میں بلیدہ فائونڈیشن سکول کے لئے10 ملین اور تعلیم فائونڈیشن کے لئے 20ملین مختص ہیں۔پرائمری سکول سے مڈل سکول اور مڈل سے ہائی سکول کی اپگریڈیشن کے لئے 8 بلین مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ملازمین کی مالی معاونت کے لیے ڈیتھ کمپنسیشن گرانٹ(Death Compensation Grants) کو 30ملین سے بڑھا کر 100ملین کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ کلسٹر بجٹ(Cluster Budget) کو2.5 بلین سے بڑھا کر2.9 بلین کر دیا گیا ہے اور اس کے پُر اثراستعمال کے لئے ایک نئی شفاف پالیسی متعارف کرائی گئی ہے ۔ سکول ایجوکیشن کے لئے شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کی مد میں 14ملین مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے لئے3,000 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں12 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں115 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ جدید دور میںاعلیٰ تعلیم کے بغیر سماجی اور معاشی ترقی ممکن نہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی ہم اپنے نوجوانوں کو قابل ،ہنر منداور خود مختار بنا سکتے ہیں۔اسی مقصد کے تحت صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے حصول کو عملی طور پہ یقینی بنا رہی ہے۔رواں مالی سال2025-26 میں محکمہ کالجز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 24 بلین مختص کیے گئے تھے۔جو آئندہ مالی سال2026-27 میں 28بلین ہوگا۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیزکی موجودہ گرانٹ8 بلین کو برقراررکھا گیاہے مزید برآں (KPIs)کے حصول سے مشروط 2بلین کارکردگی پر مبنی فنڈنگ تجویز کی گئی ہے۔روا ں مالی سال میںکالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کو مختلف سکالرشپس اور لیپ ٹاپس بھی فراہم کیے گئے۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ کالجز کیلئے سکالرشپ کی مد میں 105.8ملین مختص کئے گئے ہیں جس میں 54ملین شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے ذریعے بلوچستان کے ہونہار طلبہ وطالبات کو فراہم کئے جائیں گے۔آئندہ مالی سال میں NUST University کی مالی مشکلات حل کرنیکے لئے 200ملین رکھے گئے ہیں ۔ محکمہ کالجز کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 1 بلین گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ بسسزکی فراہمی کے لئے1 بلین مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ کالجز کے ترقیاتی مد میں2.3 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں 28.7بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ زراعت ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی معیشت میں زراعت کا حصہ.4 23فیصد ہے جس سے زراعت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔محکمہ زراعت میں Cotton Maximization Programکے تحت200 ملین رکھے گئے ہیں۔Agro Market حب کے لئے2.5 بلین مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2026-27میںکسان کارڈ پروگرام کے لیے 1بلین مختص ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ زراعت کے ترقیاتی مد میں4.4 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں 19.2بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہگندم اور دیگراجناسِ خوردونوش عوام کی بنیادی ضرورت اور غذائی تحفظ کا اہم جز ہے۔ماضی میں حکومت گندم کی خریداری ، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم خود کرتی تھی جس سے زیادہ وسائل استعمال ہوتے تھے۔ اِس سال ہم نے اس پالیسی کو بدل دیا ہے۔ اب گندم کی خریداری پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(Public Private Partnership) کے تحت کی جائے گی اور پی پی پیPPP) (غذائی تحفظ کی بھی ذمہ دار ہو گی۔ حکومت کے اس مینڈیٹ (Mandate)کے زریعے نہ صرف گندم بلکہ دیگر اجناس کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم بہتر طریقے سے کی جائے گی اور حکومت کے قیمتی وسائل کی بچت یقینی ہوگی۔اس نظام میںغذائی تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور کسی بھی بحرانی کیفیت میں سٹریٹجک ریزرو(Strategic Reserve) کے طور پر1 لاکھ ٹن گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں9 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں5.08 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقامی اور نچلی سطح پر سروس ڈیلیوری کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کردار انتہائی اہم شُمار کیا جاتا ہے۔بلدیاتی اداروں کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے موجودہ حکومت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مزید موثر بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کے لیے 36.9 بلین کی گرانٹ جاری کی جائے گی۔ جس میں35 بلین روپے لوکل کونسل کے لئے رکھے گئے ہیںجن میں مشینری کی خریداری، تنخواہ جات، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی کام شامل ہیں جو LCFCکے ذریعے اضلاع میں تقسیم کی جائے گی۔بلدیاتی اداروں اور خود مختار اداروں میں SAP System کا نفاذ ایک اہم قدم ہے۔ جس سے تمام دستی نظام (Manual System) کمپیوٹرائزڈ نظام(Computerized System) کی طرف منتقل کیا جائے گا اور MPGکے ذریعے تنخواہ اور پنشن کی براہِ راست ادائیگی کی جائے گی۔ آئندہ سال کے بجٹ میںبلوچستان بھر میں یونین کونسل دفاتر کی تعمیر مع تمام متعلقہ سہولیات کے لئے1.5 بلین مختص کئے گئے ہیں۔ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کیلئےHigh Reach Snorkel Fire Tender کی خریداری کے لیے900 ملین رکھے گئے ہیں جس کے ذریعے بلند و بالا عمارتوں میں آگ کا خطرہ کم ہوگا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں8.5 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں41.4 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ ذرائع مواصلات و تعمیرات کسی بھی علاقے اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ سرکاری عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے حوالے سے یہ محکمہ بہ حیثیت ایک عمل درآمدی ادارہ (Executing Agency) پبلک سیکٹر میں ترقی و خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بلوچستان جیسے وسیع وعریض صوبے جس میں مختلف آبادیوں کے درمیاں زمینی فاصلہ بہت زیادہ ہے جس کو کم کرنے میں اس محکمے کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔مواصلات کی بہتری کے لیے ہماری موجودہ صوبائی حکومت صوبے بھر میں شاہراہوں کا مزید جال بچھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قلعہ سیف اللہ بی ٹی روڈBT Road) ( کی تعمیر کے فیز- Iکے لیے 1بلین مختص کئے گئے ہیںجو پشین کراس سے کرُم براستہ سِرکا تک ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران ضلع جھل مگسی میں نوتال سے گنداوہ تک سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے لئے 1بلین لاگت کا منصوبہ ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے سوئی تک بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ضلع کوہلو میں BT Roadمین سبی روڈ سے تلی تنگی کوہلو تک988 ملین لاگت سے تعمیر کی جائے گی۔ضلع کیچ میں تربت سے پیدارک روڈکی تعمیر کے لئے 1.5بلین مختص کئے گئے ہیں۔ پاک افغان بارڈربادینی پر بارڈر ٹرمینل کی تعمیر کے لئے4.5 بلین مختص کئے گئے ہیں۔رواںمالی سال2025-26 میں وفاقی حکومت کے تعاون سے جاری ترقیاتی اسکیمات جن میں ٹریفک کے بہائو کو کم کرنے کیلئے فلائی اوور کی تعمیر ، سڑکوں کو کشادہ اور اپ گریڈیشن(Upgradation) کا کام تیزی سے جاری ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں27 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں20 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہجہاں ایک طرف صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے امن و امان کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وہیں وسیع رقبے اور محلِ وقوع کے با عث صوبے میں امن و امان کا نفاذایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ لیکن اللہ تعا لیٰ کے فضل و کرم اور تمام قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کوموئثر انداز میں کنٹرول کیا گیا ہے۔اس حوالے سے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری عوام نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروںکے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے جو قابلِ تعریف ہے۔رواں مالی سال2025-26 کے دوران قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید ترقی کے لیے ای کورٹس (E-Courts)کے قیام کے لیے 120 ملین کا اجراء کیا گیا جس میں کیس منجمنٹ(Case Management) ڈیش بورڈ (Dash Board) ، جدید آئی ٹی سازوسامان اور محفوظ نیٹورک شامل ہیں۔آئندہ مالی سال 2026-27کے لیے 6 اضلاع میںدفاتر اور رہائش گاہوں کی تعمیرکے تیسرے مرحلے کے لیے 1 بلین مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لییترقیاتی مد میں243 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں1.2 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ پولیس نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات اُٹھائے ہیں جن میں جدید اسلحہ و آلات اور جدید تربیت کی فراہمی شامل ہیں ۔ محکمے میں مزید بھر تیوں کی بدولت صوبے میں موجود دہشت گرد عناصر کے مذموم ارادوں کو روکا جائے گا اور مزید پولیس ا سٹیشن اور چوکیوں کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی جس کے ذریعے قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔ اسی طرح بلوچستان کا نسٹیبلری کو بھی جدید خطوط پر اِستوار کیا جا رہا ہے جس سے سیکیورٹی کو مزید سخت اور جرائم کی شرح کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔رواں مالی سال2025-26 کے دوران محرم، عید اور دیگر قومی و مذہبی دنوں کی تقریبات کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اِقدامات کیے گئے۔ رواں مالی سال2025-26 کے دوران CTD بلوچستان کے انفرا سٹرکچر اور مزیدسہولیات کی فعالی کے لیے 10 بلین مختص کئے گئے تھے۔ آئندہ مالی سال 2026-27میں محکمہ پولیس کے لیے ڈیتھ کمپنسیشن(Death Compensation) کی مد میں 530 ملین جبکہ شہدا کے بچوں کے تعلیمی اِخراجات کے لیے 20 ملین مختص کیے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 87.2 بلین مختص کیے گئے ہیں۔رواں مالی سال2025-26 میں موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام اضلاع میں قائم جیل خانوں کو سہولیات کی فراہمی اور اِن کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کے لیے 2.1بلین روپے کا خطیر رقم جاری کیا۔ جس میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں دونوں رقم شامل ہیں۔ مختلف اضلاع میں جیلوں کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے سیکیورٹی وال،بائونڈری وال(Boundary Wall) اور واچ ٹاورWatch Tower) (کی تعمیر کے لیے 500ملین سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جن میں مچھ جیل،سبی جیل ،تربت اور ڈیرہ مراد جمالی جیل شامل ہیں۔نیو سینٹرل جیل کوئٹہ کی تعمیر کے لئے 100ملین مختص کیے گئے ہیں۔بلوچستان فارنزک سائنس ایجنسی(BFSA) کے فیز- IIکے لئے 1 بلین جاری کئے جائیں گے جس سےDNA ٹیسٹ، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد کوئٹہ میں ہی ٹیسٹ ہوں گے۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں2.8 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ گڈ گورننس کے مجمو عی وژن کے تحت بلوچستان بورڈ آف ریوینیو نے بین الاقوامی قواعد کے مطابق ریوینیو ریکارڈ کی آٹومیشن(Automation) اور کمپیوٹرائزیشن (Computerisation)کا آغاز کیا ہے۔ اسی طرح اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی محصولات میں اضافے کے لیے پالیسی سطح پر جس تناسب سے کام میں تیزی لانے کی ضرورت تھی بد قسمتی سے ہمارا صوبہ ریونیو جمع کرنے میں پیچھے رہ گیا۔تاہم موجودہ صوبائی حکومت اِس شعبے کی کارکردگی میں اضافے کے لیے بھر پور کوشش کر رہی ہے تاکہ محصولات کو بڑھایا جا سکے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جا سکے۔ضلعی سطح پر آفسزکی تعمیر اور Rehabilitation کے لیے 2.5 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ڈو یژنل سطح پر دفاتر اور رہائش کی تعمیر کے لئے564 ملین روپے آئندہ سال کے لئے مختص ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں2.8 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں8.2 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر معیشت کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نہ صرف ملکی بلکہ صوبائی لیول میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری صوبائی حکومت صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ سروسزکو اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سفر کی سہولیات میسر ہو سکیں۔کوئٹہ شہر میں شہری ماسٹر ٹرانزٹ سسٹم (Master Transit System)کے تحت کو ئٹہ سٹی میں توسیعی فیڈر روٹس(Feeder Routes) پر کام جاری ہے۔ اِس ضمن میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی گرین بس منصوبے کی کامیابی کے ساتھ ایک اور منصوبہ پنک بس سروس ہے جو خاص طور پر خواتین کے لیے شروع کی گئی ہے اور ان منصوبوں کو کوئٹہ شہر اور اِن کی مضا فات میں مزید وسعت دی جا رہی ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران کوئٹہ کے فیڈر روٹس پر18گرین بسس کیلئے 700ملین محکمہ ٹرانسپورٹ کو جاری کئے جائیں گے۔ گرین اور پنک بسس کے 50بس سٹاپس کے لیے124 ملین مختص کیے گئے ہیں جوہماری مائوں اور بہنوں کو محفوظ اور با عزت سفری سہولت فراہم کرے گی۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران الیکٹرک بسز(Electric Buses) کا آغاز کیا جائے گا جس سے ماحولیاتی تحفظEnvironment Safety کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ رواں مالی سال2025-26 میں E- Bike Scheme کا آغاز کیا گیا جو خواتین کو سہولت اور تعلیم و روزگار میں با اختیار بنانے کے لئے بلوچستان میں پہلی بارمتعارف کیا گیا ہے ۔ جو آئندہ سال بھی مرحلہ وار بڑھے گا تاکہ کوئی بیٹی اور بہن تعلیم اور روزگار سے محروم نہ رہے۔ آئندہ مالی سال2026-27 میںبلوچستان ٹریفک انجینیرنگ بیورو (Balochistan Traffic Engineering Bureau) کی گرانٹ 60 ملین سے بڑھا کر 80 ملین کر دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں1.5 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں1.29 بلین مختص کیے گئے ہیں۔آبی مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کی بہتری کے لئے اہم اقدامات کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ضلع کوئٹہ میں آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے833 ملین رکھے گئے ہیں۔ ڈیموں کے کمانڈ ایریاز(Command Areas) کیFeasibility studyکے لیے285 ملین مختص کئے گئے ہیںجس کے زریعے پانی کے ہرقطرے کو قیمتی بنایا جائے گا۔ تنکِ زروتی ڈیم ماشکیل کی تعمیر سے آبپاشی اور زرعی ترقی کو فروغ ملے گا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں12.8 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 5.79 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے بارش و برف باری میں کمی، گلوبل وارمنگ(Global Warming) اور موسمیاتی تبدیلی کے پس منظر میں پانی کا مسئلہ صرف بلوچستان کا اہم مسئلہ نہیں بلکہ اکثر ممالک کی بقاء کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اِن مشکلات و مسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اِس شعبے میں اپنی ذمہ داریوں سے با خبرہے۔ مالی سال2026-27 کے دوران درج زیل اِقدامات کیے جا رہے ہیں:ضلع ہرنائی اور ژوب میں Gravity Water Supply Scheme کے تحت پانی کے حصول کو آسان بنایا جائے گا جس کی لاگت500 ملین ہو گی۔اس کے علاوہ کوئٹہ میں زیرِزمین پانی کے زخائر کی تلاش کے لیے کوئٹہ کے مضافات میں Drilling pointsکے لیے 650ملین مختص کیے ہیں ۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں7.6 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں12.4 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان تمام علاقوں میں سائنس اور آئی ٹی کی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے آئی سی ٹی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے۔ آئی ٹی کا شعبہ اپنی برآمدات کی صلاحیت کی وجہ سے ہماری ملکی معیشت کا انتہائی اہم حصہ بن چکا ہے ۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران مختلف شہروں میں سیف سٹیSafe City منصوبے کے فیز II-کے قیام کے لئے 5 بلین مختص کئے گئے ہیں جس کے زریعے جرائم کی شرح میں کمی لائی جا سکے گی۔نوجوانوں میں ڈیجیٹل(Digital) اور آئی ٹی سکلز(IT Skills) کو اُجاگر کرنے کے لئےDigibizz کے دوسرے مرحلے کے لیے 1.7بلین رکھے گئے ہیں۔ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں16 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں1.41 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے صوبہ بلوچستان کو معدنیات سے مالامال کیا ہے۔ اس ضمن میں ریکوڈک کا پرو جیکٹ اِنتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے یہ منصوبہ نہ صرف ایک اہم سرمایہ کاری ہے بلکہ بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے والا ایک بڑا منصوبہ بھی ہے۔ ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ ہماری حکومت نے خوش اسلوبی سے طے کروایا جس کے تحت ہمارے صوبے بالخصوص ضلع چاغی کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ مالی سال2025-26 میں معدنیات کے شعبے سے 14بلین حاصل کیے جائیں گے۔آئندہ مالی سال میں چما لنگ میںمائن ریسکیو اینڈ ٹریننگ سنٹر(Mine Rescue and Training Center) کے قیام کے لئے100 ملین مختص کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری(Mineral Testing Laboratory) کے لیے 30 ملین رکھے گئے ہیں جس سے صوبے کے معدنیات کو یہیں ٹیسٹ کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں145 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں4.7 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو دنیا کی بہترین ساحلی پٹی سے نوازا ہے سمندر اور اس کے 771کلو میٹر طویل ساحلی علاقے شامل ہیں اِن علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا گزر بسر سمندری حیات پر منحصر ہے۔ جس میں کوسٹل ٹورزم (Coastal Tourism) کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اس حوالے سے حکومتِبلوچستان جامع حکمتِ عملی کے تحت پوری ساحلی پٹی کو بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ماسٹر پلاننگMaster Planning) (کرارہی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ مقامی ماہی گیروں کو جدید تربیت اورسہولت فراہم کی جائے جو معاشی اِستحکام کے لیے ضروری ہے۔رواں مالی سال 2025-26میں حکومت نے اپنے وی ایم ایس (Vessel Monitoring System) پروگرام کے زریعے پیٹرولنگPatrolling) (کی اور غیر قانونی ماہی گیری کو کنٹرول کیا جس کی لاگت 300ملین تھی۔ آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران صوبے میں ڈیجیٹل فشریز انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم (DFIMS) اور میرین ریسورس میپنگ(Marine Resource Mapping) نافذکرنے کے لیے 100ملین مختص کئے گئے ہیں جس سے ماہی گیری کی شفافیت اور سمندری وسائل کی پائیداری یقینی بنائی جائے گی۔ ضلع حب میں شِرمپ ہیچری (Shrimp Hatchery)کے قیام کے لئے500 ملین مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میںایک اور منصوبہ Blue Skill Initiative: Safety and Aquaculture Project ہے جس میں نوجوان ماہی گیر وں کو تربیت دی جائے گی روزگار بنانا بھی سکھایا جائے گا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں346 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں2.27 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ توانائی کا شعبہ موجودہ صورت حال میں اِنتہائی اہم ہے جس نے زندگی کے تمام اہم شعبوں پر اپنے سنگین اثرات مرتب کئے ہیں۔ اِس بحران کے خاتمے کے لئے ہماری حکومت ہر ممکن بہتر اِقدامات کی کوشش کر رہی ہے۔بلوچستان کے سب سے بڑے منصوبے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن(Solarization) کی نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔اس منصوبے کے لیے کْل55 بلین روپے لاگت ہے جس میں 38.5بلین وفاقی حکومت اور 16.5بلین حکومتِ بلوچستان کی جانب سے شامل ہیں۔گزشتہ تین مالی سالوں میں 51.2 بلین جاری کیے جا چکے ہیں جو ایک شفاف ڈیجیٹل طریقہ کار کے زریعے سے براہِراست صارف کے بنک اکائونٹ میں ٹرانسفر کئے جاتے ہیں۔ باقی ماندہ 3.8بلین آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو کہ انشاء للہ اس منصوبے کو 100 فیصدتکمیل تک پہنچائے گا۔آئندہ مالی سال 2026-27کے دوران بلوچستان انرجی کمپنی لمیٹڈ(BECL) کے لیے18 ملین کی گرانٹ جاری کی جا رہی ہے۔کوئٹہ میںٹیکنیکل لیبارٹری (Technical Laboratory)کے قیام کے لئے500 ملین مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں توانائی کے شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں5.3 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں4.6بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا صوبہ بلوچستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سال 2022میں ہونے والی بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تباہی مچائی اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جن کے اثرات اب تک موجود ہیں۔رواں مالی سال2025-26 کے دوران موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے 500ملین کے کلائیمیٹ چینج فنڈ ) (Climate Change Fundکا اجراء کیا گیا تھا اور محکمہ ماحولیات نے فنڈزکے بہتر استعمال کے لئے پالیسی تشکیل دی ۔فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے AIپر مبنی فضائی معیار جانچنے کے نظام کے تحت آلودگی پر قابو پایا جا سکے گا۔ جس کے لیے محکمہ ماحولیات کے لیے 250ملین مختص کیے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2026-27کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ 862 ملین سے بڑھا کر 1 بلین کر دیا گیاہے اور ترقیاتی مد میں62 ملین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ بلوچستان کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ لائیو اسٹاک سے منسلک ہے۔ مال مویشی کسی بھی معاشرے کی اِقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔مویشیوں میں بیماریوں کو وقت پر کنٹرول اور ان کی اموات کی روک تھام کیلئے وی آر آئیVRI اورویکسین پروڈکشن لیب(Vaccine Production Lab) کوئٹہ کے قیام کیلئے 800ملین کا اجراء کیا جائے گا۔ جامعہ بلوچستان کے CASVAB سینٹرمیںویکسین کی تیاری کی سرگرمیوں کے لئے0 32ملین مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں1 بلین اور غیر ترقیاتی مد میں8 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ مملکتِ خداداد پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمارا صوبہ بلوچستان میں بھی آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا بلاشبہ ہم سب کے لیے چیلنج ہے۔ نوجوان نسل کو مختلف ہنر کے شعبوں میں تربیت دے کر انہیں کارآمد بنانا اور اِن کی سماجی اور معاشی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا حکومت کی اولین ذمہ داریوں و ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ سماج میں ایک بہتر مقام حاصل کر سکیں اور منفی رجحانات کی طرف مائل نہ ہوں۔ نوجوانوں کی فنی تعلیم اورہنر مندی کے فروغ کے لیے بی۔ٹیوٹا(B-TEVTA) کے لئے 171ملین کی گرانٹ جاری کی جائے گی۔ محنت کشوں سے متعلق قوانین کے نفاذ کویقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبرChild Labour) (کے سدِباب کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں ۔آئندہ مالی سال 2026-27 ژوب اور سوئی میں ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز (Technical Training Centers)کے قیام کے لیے 6ملین مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ سال میں سنٹر آف ایکسیلنسLUWAMS University کے لیے5 ملین اور گوادر کے ماڈل انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (Model Institute of Technology)کے لیے 3 ملین مختص ہیں۔ آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران بلوچستان ا نسٹیٹوٹ آف اِسکل ڈویلپمنٹ (BISD) نصیر آباد کے لیے 3ملین اوراسی طرح وومن ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرکوئٹہ(Women Technical Training Center Quetta) کیلئے 3ملین فراہم کئے جائیں گے۔آئندہ مالی سال2026-27 میںاس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں58 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں5.5 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ صنعتی ترقی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ محکمہ صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ صنعت و حرفت کے شعبے کی ترقی موجودہ صوبائی حکومت کے نزدیک فوقیت کا درجہ رکھتا ہے۔ترقیاتی منصوبے کے تحت کوئٹہ مشرقی بائی پاس کے انڈسٹریل اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ کے تیسرے مرحلے کے لیے 400ملین مختص ہیں ۔آئندہ مالی سال2026-27 میںاس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں4.2 بلین اور غیر ترقیاتی مد 4.76بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری موجودہ صوبائی حکومت نے معاشرے میں موجود تمام کمزور طبقات کی بلخصوص یکساں بہبود و تحفظ اور خدمات کی پیش رفت کے لئے مضبوط عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ صوبہ بلوچستان کے محروم طبقات کو مختلف شعبوں میں پیش رفت اور خاطر خواہ مدد مل سکے۔ جن کیلئے صوبائی حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیںکم آمدنی والے گھرانوں کواپنی رہائش کے لیے لو کاسٹ ہائوسنگ پراجیکٹ (Low Cost Housing Project)کی مد میں 2بلین اور سولر فنانسنگ(Solar Financing) منصوبے کے لیے 2بلین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔وزیرِاعلیٰ کی مائیکرو فنانس سکیم(Micro Finance Scheme) کے تحت 1بلین بلا سودقرضے اور عوامی فلاح کے لیے ، عوامی انڈومنٹ فنڈ.3 1 بلین جبکہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈکے زریعے مستحق طلباء و طالبات کی معاونت جاری رکھنے کیلئے2.82بلین مختص ہیں ۔علاوہ ازیں آئندہ مالی سال2026-27 میں حکومتِ بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے 1.5بلین سے زائد خصوصی فنڈز کا اجراء کر رہی ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:اسپیشل پرسن سپورٹ فنڈ، ماہی گیرویلفئیر فنڈ، صحافی و آرٹسٹ ویلفئیر فنڈ، اقلیتی ویلفئیر فنڈ۔صوبے بھر میں 500الیکٹرک ویل چئرز(Electric Wheel Chairs) کی خریدو تقسیم کے لیے200 ملین مختص ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں329 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں6.39 بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ بلوچستان کی مجموعی آبادی کا 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بلوچستان کی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کی نشونما اور انہیں پُر سکون فضاء وسازگار ماحول کی فراہمی ہماری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران ضلع کیچ میں منی سپورٹس کمپلیکس (Mini Sports Complex)مند میں تعمیر کی جائے گی جس کی لاگت 100ملین ہے، اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے چار اضلاع میں100ملین لاگت کے انکیوبیشن سنٹرز(Incubation Centers)قائم کیے جائیں گے جس میں ضلع کیچ،خضدار،لورالائی اور نوشکی شامل ہیں۔ضلع کیچ میں شہید زاکر بلوچ فٹبال گرائونڈ اور کوئٹہ میں پیڈل کورٹس(Padel Courts) کا قیام عمل میں لایاجائے گا جس کے لئے90 ملین مختص ہیں،جو نوجوانوں کو کھیل کے شعبے سے منسلک کرنے کا بہترین اقدام ہے۔ آئندہ مالی سال2026-27 میں شعبہ کھیل کے لیے ترقیاتی مد میں645 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں 2.62بلین مختص کیے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو جنگلات وجنگلی حیات جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جنگلات سماجی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ماحولیات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت جنگلات و جنگلی حیات کو مزید تحفظ دینے اور ان کی ترقی کے لئے پُر عزم ہے۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے بلوچستان میں 4806 ایکڑز رقبے پر بلاک شجر کاری اور6600 ایکڑ کی اراضی پر مینگرووز جنگلات کی شجرکاری کی گئی۔5 بریڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے اور 500 ایکڑز اراضی پر جنگلی حیات کے قدرتی مسکن کی فراہمی کے اقدامات کیے گئے۔آفس ،رہائش ،چیک پوسٹ،سیڈسٹور(Seed Store)،فیلڈ سٹیشن(Field Station)،جی آئی ایس نوڈز (GIS nodes) کی تعمیرات کی کُل تعداد 74ہے اور نرسری میں اُگائے گئے پودہ جات کی تعداد 33ملین ہے۔محکمہ جنگلات اے این آر (ANR) 33,000ایکڑ، واٹر شیڈ2460 (Water Shed) ایکڑ، رینج منجمنٹ8186(Range Management) ایکڑ، کلسٹر(Cluster) 38,950 ایکڑپر مشتمل ہے اس کے علاوہ34 ڈسٹرکٹ نرسریز اور6 میگا نرسریز شامل ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میںصحبت پور، اوستہ محمد اور جعفر آباد کی سیلاب زدہ زمینوں کی بحالی کے لئے200 ملین اورجنگلات کی بحالی کے لئے500 ملین جبکہ چراگاہوں کی بہتری کے لیے2 بلین مختص کئے ہیں۔ضلع پشین بوستان میں مارخور بریڈنگ فارم مع تمام سہولیات کے قیام کے لیے 100ملین مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں978 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں3.76 بلین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتِ بلوچستان نے سیاحت و ثقافت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم اقدامات اُٹھائے ہیں۔ صوبہ بلوچستان اپنی ثقافت اور سیاحتی مقامات کے حوالے سے ایک مالامال صوبہ ہے جس کی ترقی کے لیے صوبائی حکومت اہم اقدامات کر رہی ہے آئندہ مالی سال 2026-27کے دوران ثقافت،موسیقی، خضدار فیسٹیول اور وی لاگنگ(V-logging) کے لئے پہلی بار 85ملین مختص کئے گئے ہیں۔کوئٹہ میںٹورزم (Tourism)اورثقافتی سرگرمیوں کیلئے250ملین رکھے گئے ہیں جس سے ٹورزم اور ثقافت کو فروغ ملے گا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں285 ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں1.81بلین مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے میں منشیات کی روک تھام اور ٹیکسیشن کے نظام کو نافذ کرنے کے لئے اِس محکمے کی خدمات اہمیت کی حامل ہیں۔ محکمہ ایکسائز نے تمام گاڑیوں کے لائسنسز کو کمپیو ٹرائز ڈ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد تمام پُرانے لائسنس مرحلہ وار ختم ہو کر آن لائن کمپیوٹرائزڈ لائسنس میں تبدیل ہو جائیں گے جس سے تمام گاڑیوں کا ریکارڈ اپ ڈیٹ ہو گا۔ ان اقدامات سے فراڈ سے بچائو، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوںکی چوری اور دہشت گردی کے جرائم میں استعمال ہونے جیسے واقعات کی روک تھام کرنے میں مدد ملے گی۔محکمہ ایکسائز میں تھرڈ پارٹی انشورنس کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ اس اقدام کے تحت کسی بھی سڑک حادثے کی صورت میں متاثرہ فریق کو ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ انشورنس کمپنی کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس سے شہریوں کو فوری مالی تحفظ حاصل ہوگا، قانونی تنازعات میں کمی آئے گی اور حادثات کے متاثرین کو بروقت معاوضہ مل سکے گا۔ صوبے میں گاڑیوںکے لئے بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ پرسنلائزڈ نمبر پلیٹ (Personalized Vanity Plates)کا آپشن دے کر ٹرانسپورٹ سسٹم کو محفوظ اور ڈیجیٹل بنا رہے ہیں۔حکومت ریونیو میں اضافے کے لیے ڈیجٹلائزیشن کے زریعے اقدامات اٹھا رہی ہے جیسے کہ پراپرٹی ٹیکس کی آٹومیشن،ڈیجیٹل سسٹم کا نفاذ، ٹیکس چوری کی روک تھام ۔آئندہ مالی سال2026-27 کے لئے ڈیجیٹل ریڈیو نظام(Digital Radio System) کے منصوبے کیلئے 101ملین مختص کیے گئے ہیں جس میں دو طرفہ ڈیجیٹل ریڈیوکمیونیکیشن(Digital Radio Comminication)کی تو سیع کی جائے گی اور ریڈیو ٹاورز (Radio Towers)اور موبائل سٹیشن کے زریعے سرکاری دفاتر کا رابطہ بہتر ہوگا۔آئندہ مالی سال2026-27 میں اس شعبے کے لئے3.31بلین مختص کیے گئے ہیں جن میں40 ملین غیر ترقیاتی بجٹ کے تحت تربیت اور استعدادِکار کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں60 ملین مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ترقیِ نسواں یعنی (Women Development)محکمہ کا مقصد Gender Equality اور خواتین کو Empowerکرنا ہے اور اُن کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اُٹھانا ہے۔ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں اور اُن کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر ملکی ترقی اور خوشحالی کا سفر نا ممکن اور نامکمل ہے۔ اِس محکمے کی ترقی کے لیے ہماری حکومت نے آنے والے سال میں خاطرخواہ اقدامات کیے ہیں جن میں درج ذیل شامل ہیںضلع نصیرآباد میں ویمن ہینڈی کرافٹ سنٹر(Women Handicraft Center)کی تعمیر کیلئے 60ملین مختص کئے گئے ہیں۔ خواتین کے لئے کاروبار کے لئے بلا سود قرضے کی فراہمی Women Entrepreneursکو فروغ دینے میں اہم قدم ہے۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں74 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں579ملین مختص کیے گئے ہیں۔پاکستان کا قیام ہی اسی نظریے پر ہوا تھا کہ ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اُس کو مساوی حقوق اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہو گی۔ہماری حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور اُن کی فلاح و بہبودکو محض آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ سمجھتی ہے۔ہماری حکومت نے محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کر کے محکمہ بین المذاہب ہم آہنگی کر دیا ہے اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوںکے لئے سرکاری ملازمت کے مختص کردہ کوٹے پر عمل درآمد اور اُن کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کو یقینی بنایا ہے جو کہ صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی کا باعث ہے۔اس سال کے بجٹ میں اقلیتی امور کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔بلوچستان کے قدیم ہنگلاج مندر لسبیلہ کے لئے 1بلین مختص کئے گئے ہیں جو زائرین کے لئے سہولیات اور مذہبی سیاحت کو فروغ دے گا۔آئندہ سال مختلف اضلاع میں مندروں کی بحا لی اور اضافی تعمیرات و توسیع کے لئے300 ملین سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ جن میں جھل مگسی، نصیرآباد، سبی، جعفر آباد، کیچ، نوشکی اور کوئٹہ وغیرہ شامل ہیں۔آئندہ مالی سال2026-27 میںاقلیتی امور کے لئے200 ملین کی ریگولر گرانٹ جاری کی جائے گی۔آئندہ مالی سال2026-27 میں ا س شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں663 ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں1.57بلین مختص کیے گئے ہیں۔میرشعیب نوشیروانی نے کہاکہ ایف بی آر کے محصولات میں بہتری آنے کی بدولت صوبے کوNFC کی مد میں ملنے والے ٹیکس محصولات مالی سال 2026-27میں771بلین روپے وصول ہوںگے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کے نظام محصولات کو پائیداربنیادوں پر استوار کرنے اور ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے موجودہ حکومت نے فنانس بِل کے ذریعے ٹیکس کے قوانین میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ صوبے میں کاروبار کو فروغ دینے اور روزگار بڑھانے کے لیے حکومت نے کئی انقلابی اقدامات اُٹھائے۔Treasury Single Account کو یقینی بنایا جائے گا جس سے تمام سرکاری اداروں اور خودمختار اداروں کا پیسہ ایک جگہ جمع ہوگا۔حکومت کا ایک اور اقدام ٹیکس کا حساب رکھنے کے لیےLegal Assesment Gap ہے جس میں ٹیکس اور نان ٹیکس قوانین کا مکمل سروے ہوگا اورنئے وسائل کے لیےRevenue Assesment Gap جس سے آمدنی کے ممکنہ ذرائع تلاش کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران ٹیکس اور نان ٹیکس کے محصولات میں درج ذیل صوبائی محکموں کو جو خاطر خواہ اضافے کے ساتھ اہداف دیے گئے ہیں اُن کے حصول کو یقینی بنانے کی بار آور کاوشیں کی جائیں گی۔ اِن محکموں کی طرف سے حاصل کردہ محصولات کی تفصیل یوں ہے بلوچستان ریونیو اتھارٹی۔۔۔59.8بلین محکمہ توانائی۔۔۔36.9بلین محکمہ معدنیات و معدنی وسائل۔۔۔21.1بلین ۔بلوچستان بورڈ آف ریونیو۔ ۔۔8.4بلین ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ۔۔۔4.0بلین۔ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے ہماری حکومت نے درج ذیل فلاحی اقدامات کئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے جس کے مطابق بلوچستان صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باو جود وفاق کے طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7%اضافہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ہر ضلع میںنوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کرنے جا رہی ہے(Comprehansive District Livelihood Plan) جس سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور ان پلانز کے زریعے ہر ضلع میں مو جود مسائل اور رکاوٹوںکا تکنیکی احاطہ کیا جائے گااور سماجی و معاشی (Socio-Economic)اقدامات کے زریعے ہر ضلع کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ بجٹ” ٹیکس فری بجٹ” ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے ۔نئی الیکٹرک گاڑیوں پر100 فیصد ٹیکس معاف کیا گیاہے۔پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ صوبے میں صنعتی ترقی کے لئے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں بیرونی انوسٹمنٹ پر تمام صوبائی ٹیکسوں کو معاف کیا گیا ہے۔ تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس0% کر دیا ہے۔ ہوٹل ٹیکس کا1965 کا قانون اور ہوٹلوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبارکو فروغ دینے کے لئے حکومت نے جائیداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس (Capital Value Tax)اور سٹامپ ڈیوٹی(Stamp Duty) کی شرح 2%سے کم کرکے 1%کردی ہے۔ وزیرِاعلیٰ کی مائیکرو فنانس سکیم کے تحت 1 بلین بلا سودقرضے کی فراہمی اور عوامی فلاح کے لیے عوامی انڈومنٹ فنڈکے لیے.3 1 بلین مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈکے زریعے مستحق طلباء و طالبات کی معاونت جاری رکھنے کیلئے2.82بلین مختص ہیں ۔ واشک ڈویلپمنٹ پلان کے طرز پر اس سال موسٰی خیل ڈویلپمنٹ پلان کا منصوبہ ہے۔کوہِ سلیمان ڈویژن کا قیام ۔ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 1.5بلین کامزید اضافہ کیا گیاہے۔500الیکٹرک ویل چئرزElectric Wheel Chairs) (کی خریدو تقسیم کے لیے200 ملین مختص ہیں۔ عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے گرین اور پنک بسس کے فیڈر روٹس اور بس سٹاپس میں توسیع۔اسی کے ساتھ ساتھ پیپلز ٹرین سروس(People’s Train Service) اور الیکٹرک بسس (Electric Buses)کا بھی آغاز کیا جائے گا۔خواتین کی معاشی خود مختاری اورWomen Entrepreneursکو فروغ دینے کے لیے خواتین کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی ۔ صوبے کے مختلف اضلاع میںکے انکیوبیشن سنٹرز(Incubation Centers)اور منی سپورٹس کمپلیکس(Mini Sports Complex) مند کے قیام کے لئے 200 ملین مختص۔عوام کے لئے ا سپیشل سپورٹ پروگرام کیلئے 600 ملین مختص ہیں۔شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے لئے 54ملین مختص ہیں۔نوجوانوں میں ڈیجیٹل سکلز اُجاگر کرنے کے لئےDigibizz کے لیے 1.7 بلین مختص ہیں. غریب گھرانوں کی رہائش کے لیے لو کاسٹ ہائوسنگ پراجیکٹ (Low Cost Housing Project)کی مد میں 2بلین رکھے گئے ہیں۔ صوبے کے تمام یونین کونسلزمیں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے جامعہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں پھل،سبزی،غلہ، مویشی منڈیوں اور بس ٹرمینلز کی جدیدسہولیات فراہم کی جائیں گی۔ عوامی شکایات کے بر وقت ازالے کیلئے Grievance Redressal Systemقائم کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال 2026-27میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مجموعی طورپر5000 نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جائیں گی ۔میں اختتامی کلمات میں اس معزز ایوان کے سامنے یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویزنہیں بلکہ بلوچستان کے روشن اور پائیدار مستقبل کا ایک جامع روڈ میپ ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے حکومت نے صحت، تعلیم، زراعت، روزگار اور انسانی وسائل بلخصوص خواتین اور نوجوانوں کی ترقی کو اولین ترجیح دی ہے جو معاشی ترقی کو فروغ دینے اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ہم نے عوامی خدمت، مالی شفافیت اور ترقی کے ثمرات کو صوبے کے ہر شہری تک پہنچانے کا پختہ عزم کیا ہے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر میں خصوصی طور پر اسپیکراسمبلی ، معزز ممبران اور اسمبلی سٹاف کا مشکورو ممنون ہوں جنہوں نے ایوان کا تقدس اور نظم و ضبط برقرار رکھا اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بجٹ کی تیاری میںشب و روز محنت اور معاونت کی خصوصاً فنانس، پی اینڈ ڈی اور گورنمنٹ پرنٹنگ پریس جو اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہے اور ساتھ ہی میں محکمہ اطلاعات، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے صحافیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔میںآخر میں وزیراعلیٰ میر سرفرازبگٹی کا تہہ دل سے شکرگذار ہوں جنہوں نے مجھ پر اور میری پوری ٹیم پر اعتماد کیا اور ہماری رہنمائی فرمائی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں بلوچستان کو حقیقی معنوں میں خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔











