کوئٹہ، 18 جون (اے پی پی): بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہو گیا جبکہ صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے مالیاتی مسودہ قانون 2026 ایوان میں پیش کیا۔جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیرصدارت شروع ہوا۔اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بجٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو وفاق سے مزید وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، امن و امان اور روزگار کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے بارڈر علاقوں میں قانونی تجارت کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقیاتی ثمرات کی منصفانہ فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بعض تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں گڈ گورننس اور امن و امان کی بہتری کو اہم قرار دیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحافی اور میڈیا ورکرز مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور حکومت ان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا اداروں کے بیوروز کی بندش سے صحافیوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ضروری ہے اور صوبائی حکومت میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری بلوچستان کے اہم مسائل میں شامل ہے اور حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے بجٹ کو موجودہ مالی حالات میں متوازن اور قابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، اسکولوں کی اپ گریڈیشن، گرین اور پنک بسوں کی فراہمی اور دیگر فلاحی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صحت کے شعبے کے بجٹ میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی)کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔صوبائی وزیر خوراک نور محمد دومڑ نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں امن و امان کا مسئلہ سرفہرست ہے اور پائیدار ترقی کے لیے امن کا قیام ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی زمرک اچکزئی، صوبائی وزیر علی مدد جتک، صوبائی وزیر فیصل جمالی اور رکن اسمبلی دستگیر بادینی سمیت دیگر اراکین نے بھی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع اور مختلف اضلاع کے مسائل پر توجہ دلائی۔بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ 19 جون کو صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔











