لاہور، 19 جون (اے پی پی): متروکہ وقف املاک بورڈ، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان کے زیر انتظام گورو ارجن دیو جی (جوڑ میلہ) کی تقریبات اختتام پذیر ہوگئیں، جس کے بعد بھارت سے آئے سکھ یاتری اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔
واہگہ بارڈر پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان، پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو الوداع کیا۔ اس موقع پر یاتریوں نے پاکستان میں قیام کے دوران ملنے والی محبت، عزت، مہمان نوازی اور مثالی انتظامات پر حکومت پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔
بھارتی جتھہ لیڈر بھوپندر سنگھ نے کہا کہ دنیا کا ہر سکھ پاکستان آنا چاہتا ہے کیونکہ یہاں سکھ مذہب کے مقدس مقامات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کی خوبصورتی و تزئین و آرائش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب، گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال، گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اور گردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں کیے گئے انتظامات مثالی رہے۔
سکھ یاتریوں نے کہا کہ پاکستان امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی سرزمین ہے جہاں تمام مذاہب کے مقدس مقامات کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے واپس جا کر یہاں سے ملنے والے پیار، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔
جتھہ لیڈر گرمیت سنگھ نے متروکہ وقف املاک بورڈ، شرائنز برانچ اور سکیورٹی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے، جس کی وجہ سے انہیں پاکستان میں اپنے گھر جیسا ماحول محسوس ہوا۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ 14 سال بعد گورو ارجن دیو جی کا شہیدی دن مشترکہ طور پر منانے کا موقع ملا ہے، جبکہ 21 جون کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لیے ایک اور بھارتی سکھ جتھہ پاکستان آئے گا۔
پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان کی دھرتی نے ہمیشہ سکھ برادری کو خوش آمدید کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں سکھوں کی تعداد کم ہے، لیکن پوری دنیا کا سکھ پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کے لیے کیے گئے بہترین انتظامات کو بھی سراہا۔
خوشگوار یادوں، نیک تمناؤں اور پاکستان سے محبت کے جذبات کے ساتھ بھارتی سکھ یاتری اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے۔











