لوڈشیڈنگ اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی، شاہدہ اختر علی

4

اسلام آباد، 22 جون (اے پی پی): قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ سے متعلق کٹ موشن پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ، سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار اور شہری ترقی سے متعلق مسائل پر جامع اور شفاف حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے بعض علاقوں، خصوصاً بلوچستان اور دیگر متاثرہ خطوں میں لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، تاہم مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں شفافیت اور کارکردگی کی جانچ ضروری ہے۔رکن اسمبلی  شاہدہ اختر علی کا کہنا تھا  کہ یہ ضروری نہیں کہ حکومت کو صرف تنقید کا نشانہ بنایا جائے، بلکہ پالیسیوں کے مؤثر نفاذ اور ان کی کامیابی کا جائزہ بھی شفاف طریقے سے لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عوام واقعی مطمئن ہیں یا نہیں۔

انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انٹیلیجنس ایجنسی  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ادارہ قائم کیا جا چکا ہے، تاہم سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے اس کی استعداد کار، تربیت یافتہ عملہ اور وسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا انحصار اس کی فنڈنگ، تربیت اور افرادی قوت پر ہوتا ہے، اس لیے سیکیورٹی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رکن اسمبلی نے شہری ترقی کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑھتی ہوئی تعمیرات، خاص طور پر کثیر المنزلہ عمارتوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پھیلاؤ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں پارکنگ کی سہولیات اور ماسٹر پلاننگ کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں شہری مسائل میں اضافہ نہ ہو۔