اسلام آباد،22جون (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس وژن کی ایک پائیدار عکاسی ہے جس کا مقصد معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو سہارا اور مواقع فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے شفافیت، مالی شمولیت اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موثر سماجی تحفظ کے پروگرام مستحق خاندانوں کی معاونت اور خواتین کو معاشی و سماجی زندگی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد اور سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں شرکت کی جہاں انہیں پروگرام کی پیش رفت، جاری اصلاحات اور ملک بھر کے مستحق خاندانوں پر اس کے اثرات کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی گئی۔خاتون اول کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران بی آئی ایس پی کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 844 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ انہیں آگاہ کیا گیا کہ بے نظیر کفالت پروگرام کے تحت اس وقت 1 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 14,500 روپے نقد امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ جنوری 2027ء سے اس وظیفے کو بڑھا کر 18,000 روپے کرنے کا منصوبہ ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت 1 کروڑ 24 لاکھ بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے کم از کم 70 فیصد سکول حاضری کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسی طرح بے نظیر نشوونما پروگرام کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ پائلٹ مرحلے کے تحت 52 ہزار نوعمر لڑکیوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔خاتون اول کو بتایا گیا کہ صدر آصف علی زرداری اور بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے شروع کیا گیا بے نظیر ہنرمند پروگرام مستحق افراد کو مفت فنی تربیت فراہم کر رہا ہے جس میں اب تک 7 ہزار سے زائد افراد داخلہ لے چکے ہیں۔ ڈیجیٹل شعبے میں وزیراعظم کے ’’کیش لیس اکانومی‘‘ اقدام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے ذریعے باضابطہ مالیاتی نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 85 لاکھ سے زائد مفت سمیں تقسیم کرکے والٹس سے منسلک کی جا چکی ہیں جبکہ 4 لاکھ 10 ہزار سے زائد مستحقین کو ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی کی تربیت بھی دی گئی ہے۔











