پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا ، ڈاکٹر مصدق ملک

5

اسلام آباد، 29  جون )اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دو ماہ کے دوران سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا گیا، پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے موقف کو موثر انداز میں اجاگر کر رہا ہے اور آئندہ عالمی کانفرنس میں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین اور زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ وہ پیر کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے جبکہ قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ بھی زراعت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں استعمال ہونے والی گندم، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس ملک کی سو فیصد غذائی تحفظ (فوڈ سکیورٹی) سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں 50 فیصد روزگار، 20 سے 25 فیصد معیشت اور سو فیصد فوڈ سکیورٹی کا انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے اگر پاکستان کے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ملک کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف یہ اعلان ہی نہیں کر چکا بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دو مرتبہ عملی طور پر بھی یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا کے تمام ان ممالک کا ہے جو دریاؤں کے زیریں حصوں میں واقع ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا اب یہ اصول تسلیم کر لے کہ بالائی علاقوں میں واقع ممالک زیریں علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا پانی روک سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو پھر دنیا کے اربوں لوگوں کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں برسلز میں ہونے والی ملاقاتوں اور کانفرنسوں میں بھی پاکستان نے یہی موقف پیش کیا ہے اور آئندہ بین الاقوامی کانفرنس میں بھی یہ مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر انصاف کیا ہے اور کیا زیریں علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پانی کا بنیادی حق حاصل ہے یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کے بیشتر دریاؤں پر کسی معاہدے کے بجائے بین الاقوامی اصولوں اور روایات کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دریائے نیل کئی ممالک سے گزرتا ہے جبکہ یورپ میں بھی دریا مختلف ممالک سے ہو کر گزرتے ہیں۔ اگر سپین چاہتا تو پرتگال کا پانی روک سکتا تھا لیکن دنیا ایسے اقدام کو قبول نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ بہتے ہوئے پانی کو روکنا اسی طرح غیر فطری ہے جیسے ہوا یا خوشبو کو سرحدوں پر روکنے کی کوشش کرنا۔

انہوں نے کہا کہ آنے والی کانفرنس بنیادی طور پر انصاف اور بنیادی حقوق کی کانفرنس ہے۔ اس میں انڈس واٹر ٹریٹی کے قانونی، تکنیکی اور بین الاقوامی کنونشنز سے متعلق تمام پہلو بھی پیش کیے جائیں گے تاہم اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا دنیا کے ان چار ارب لوگوں کے پانی کے حق کا تحفظ کیا جائے گا جو زیریں علاقوں میں رہتے ہیں اور جن کے درمیان پانی کی تقسیم کسی مخصوص معاہدے کے بجائے بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے متعدد بین الاقوامی معاہدے اس لیے کیے تھے تاکہ انصاف، امن اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، مگر آج ان اصولوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ مقدمہ پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر اٹھا چکا ہے اور مختلف عالمی فورمز پر اس پر بات کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقف کا اب تک کوئی موثر جواب سامنے نہیں آیا۔

وفاقی وزیر نے میڈیا نمائندوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کریں جہاں انڈس واٹر ٹریٹی، بین الاقوامی قوانین، کنونشنز اور پاکستان کے موقف کے تمام قانونی اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور ہر سوال کا جواب فراہم کیا جائے گا۔