پمز  کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں پیشنٹ فیسیلیٹیشن اسسٹنٹ سروس کا آغاز

5

اسلام آباد،7جولائی(اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےوفاقی دارالحکومت کے معروف ہسپتال پمز  کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں پیشنٹ فیسیلیٹیشن اسسٹنٹ سروس  کے آغاز کو ہسپتال کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

  پیشنٹ فیسیلیٹیشن اسسٹنٹ سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ   1984 میں  پمز کے قیام کے وقت اسلام آباد کی آبادی تقریباً سات لاکھ تھی   جو پچاس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ ہسپتال آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے آنے والے مریضوں کو بھی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔  ماضی میں پمز میں روزانہ تقریباً دو سو مریض آتے تھے جبکہ اب یہ تعداد سات  ہزار سے نو ہزار  تک پہنچ چکی ہے۔ لواحقین سمیت روزانہ 35 سے 40 ہزار افراد پمز میں موجود ہوتے ہیں، جو ایک بڑے اجتماع کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات لاکھ افراد کے لیے قائم کیا گیا ہسپتال آج کروڑوں کی آبادی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت حقائق چھپانے پر یقین نہیں رکھتی اور تسلیم کرتی ہے کہ موجودہ صورتحال مثالی نہیں،  انتظامی کمزوریاں موجود ہیں، تاہم انہیں دور کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ کمزور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم ہے، نزلہ، زکام اور بخار جیسے معمولی امراض کے مریضوں کو بڑے اور ٹیچنگ ہاسپٹلز  میں آنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، لیکن بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہونے کے باعث یہ بوجھ پمز جیسے ہسپتالوں پر آ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے 28 بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو فعال بنانے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم ہو۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پمز میں فیراپلس   مشین فعال کر دی گئی ہے جس کے بعد دل کے مریضوں کو جدید علاج کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے موجود انتظامی  رکاوٹیں بھی دور کر دی گئی ہیں۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آبادی ساڑھے 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور  اس میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گلی میں ہسپتال  ہونے  کے باوجود بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تمام مریضوں کی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں، اس لیے بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ  بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہوگی  کیونکہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہر تیسرا فرد شوگر کا مریض ہے اور تقریباً 68 فیصد بیماریاں صاف پانی کی عدم دستیابی سے پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی وزارتِ صحت نہیں بلکہ مؤثر بلدیاتی نظام کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کا مقصد اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا تھا، لیکن وفاق سے وسائل  صوبوں کو منتقل ہونے کے باوجود یونین کونسل کی سطح تک مؤثر نظام قائم نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اگر وسائل مقامی حکومتوں تک پہنچیں تو صاف پانی، بنیادی صحت مراکز، سکول اور دیگر بنیادی سہولیات بہتر انداز میں چلائی جا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت اور سکولز چلانا یونین کونسلز کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو سمیت 13 امراض کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے عوامی انکار کی ایک بڑی وجہ بھی مقامی سطح پر مؤثر نظام کا فقدان ہے۔ اگر مقامی نمائندے اپنی برادری اور محلوں میں فعال ہوں تو ویکسین سے انکار جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کی بنیاد مضبوط بلدیاتی نظام ہے، لیکن بدقسمتی سے کئی کئی سال تک مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں کرائے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ صرف چند سو بیوروکریٹس پورے نظام کو نہیں چلا سکتے جبکہ فعال بلدیاتی نظام کی صورت میں لاکھوں افراد مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اٹھارویں ترمیم  پر مکمل عملدرآمد کی خواہاں ہے تاکہ اختیارات اور وسائل حقیقی معنوں میں عوام کی دہلیز تک منتقل ہوں اور صحت سمیت بنیادی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔