ہیپاٹائیٹس سی کا خاتمہ قومی مقصد ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

6

اسلام آباد، 8 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائیٹس سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی تکنیکی مشاورتی گروپ برائے ہیپاٹائیٹس کے سربراہ پروفیسر سعید اختر، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیپاٹائیٹس سی پروگرام، ہسپتالوں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد نے شرکت کی۔

اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیپاٹائیٹس سی پروگرام نے اسلام آباد میں ہیپاٹائیٹس سی کی اسکریننگ کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس موقع پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد میں پائلٹ مرحلہ شروع کرنے کا مقصد عملی طور پر نظام میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا تھا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مسائل کے مؤثر حل نکال کر آئندہ 15 دنوں میں نظام کو مکمل طور پر مستحکم کیا جائے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیپاٹائیٹس سی کے مریضوں کی بروقت نشاندہی اور علاج سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائیٹس سی کے تقریباً ایک کروڑ سے زائد مریض ہیں اور اس بیماری کا خاتمہ ہمارا قومی مقصد ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم ہیپاٹائیٹس سی پروگرام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان کو ہیپاٹائیٹس سے پاک بنانا ہمارا قومی عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی مہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہیپاٹائیٹس سی پروگرام کی کامیابی میں پمز اور پولی کلینک ہسپتال کا کلیدی کردار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ہر فرد اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنا ٹیسٹ کروائے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیپاٹائیٹس سی قابل علاج مرض ہے اور اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج سے نہ صرف جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت شہریوں کو مفت اسکریننگ اور مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے جبکہ جن افراد میں ہیپاٹائیٹس سی کی تشخیص ہوگی ریاست ان کا مفت علاج کرے گی۔