اقوام متحدہ، 22 جولائی )اے پی پی) :پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی ) کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر “معطل” کرنے کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، خصوصاً جب یہ اقدامات جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے تناظر میں کیے جا رہے ہوں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے “قدرتی وسائل کی حکمرانی: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد” سے، جس کا انعقاد جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) نے کیا، پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر مؤثر، قانونی طور پر لازم اور نافذ العمل ہے، جیسا کہ اگست 2025 میں ثالثی عدالت(کورٹ آف اربیٹریشن) کے فیصلے میں بھی توثیق کی گئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست کو مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ ڈالنے یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خصوصاً جب وہ معاہداتی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہو۔
مستقل مندوب نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے روزگار اور زندگیوں کو براہِ راست خطرے سے دوچار کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے حل طلب تنازع کے پس منظر میں یہ اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے نہایت سنگین مضمرات رکھتے ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال یا انہیں ہتھیار بنانے کے ایسے اقدامات پر مسلسل نظر رکھے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اور ان سے نمٹنے کے لیے پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے پرامن حل، پابندیوں اور نگرانی کے مؤثر نظام سمیت اپنے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس امر کا اعادہ کیا کہ قدرتی وسائل کی حکمرانی اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں، بالخصوص جنرل اسمبلی کی قرارداد 1803 میں تسلیم شدہ اقوام کے اپنے قدرتی وسائل پر مستقل خودمختار حق، کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کو قومی ترجیحات، پالیسی سازی کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام کرتے ہوئے ممالک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام کے اصول صرف معدنیات تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ آبی وسائل، جنگلات اور مشترکہ ماحولیاتی نظام پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، سرحد پار مشترکہ وسائل کا قانونی اور باہمی تعاون پر مبنی انتظام تنازعات کی روک تھام، اختلافات کے پرامن حل اور ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کا ذریعہ بنانے کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال، بیرونی مداخلت، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں اور وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی غیر منصفانہ تقسیم دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی، مسلح تنازعات اور انسانی بحرانوں کو جنم دے رہی ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قدرتی وسائل کو اقوام کے درمیان تنازعات نہیں بلکہ تعاون، مشترکہ خوشحالی اور دیرپا امن کو فروغ دینے کا ذریعہ بننا چاہیے۔











