اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ‘اُڑان پاکستان’ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ریلوے کی بحالی، جدید کاری اور قومی معاشی ترقی کے وژن پر زور دیا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پروگرام کے انعقاد پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کا ایک بڑا حصہ اپنی تکنیکی عمر پوری کر چکا ہے کیونکہ ماضی میں اس شعبے میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ٹریکس کی اپ گریڈیشن اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کو اول ترجیح دے رہی ہے تاکہ ہمسایہ ممالک کی طرز پر ریلوے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
وزیر ریلوے نے ادارے کی مالی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن حاصل کی، جبکہ مجموعی آمدن میں 24.2 فیصد اضافہ ہوا اور آپریٹنگ ریشو 96 فیصد سے کم ہو کر 84 فیصد پر آ گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مال برداری کی آمدن 32 ارب سے بڑھ کر 41 ارب روپے ہوئی، جبکہ پراپرٹی اور لینڈ سے حاصل ہونے والی آمدن میں 113 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جو مؤثر اصلاحات کا ثبوت ہے۔
محمد حنیف عباسی نے واضح کیا کہ وزارتِ ریلوے نے 2033 تک کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا ہے جس میں ML-1، ML-3، علاقائی رابطوں اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ دسمبر 2026 تک پورا کر لیا جائے گا۔ ڈیجیٹل ٹکٹنگ، اسمارٹ اسٹیشنز، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے ذریعے ادارے کو مالی طور پر مستحکم اور محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو 2030 تک ایک کھرب (ون ٹریلین) ڈالر کی معیشت بنانے کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے حنیف عباسی کی قیادت میں ریلوے اصلاحات کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اسی مالی سال میں ML-1 منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ کی جائے گی۔ دونوں وزراء نے زور دیا کہ ریلوے کی بروقت فنڈنگ اخراجات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں اہم سرمایہ کاری ہے۔











