لاہور، 23 جولائی (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین سے چین کے صوبہ حونان کے شہر لاؤڈی کے ڈپٹی میئر یانگ وائے کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے سرکاری و نجی کاروباری وفد نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین اور مقامی صنعتکار بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی، معاشی تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور گزشتہ روز گجرات اور لاؤڈی سٹی کے درمیان طے پانے والے سسٹر سٹی معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی اور مضبوط معاشی تعاون قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہر مشکل گھڑی، خواہ جنگ ہو، امن، سیلاب، زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت، ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے بین الاقوامی امور پر ہمیشہ یکساں مؤقف اختیار کیا، جبکہ پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ انہوں نے چین کی تیز رفتار ترقی کو پاکستان کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی ترقیاتی ماڈل اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے معاشی ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے گجرات اور لاؤڈی سٹی کے درمیان ہونے والے سسٹر سٹی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مؤثر عملدرآمد سے دونوں شہروں کے عوام کو معاشی اور تجارتی فوائد حاصل ہوں گے۔
چین کے شہر لاؤڈی کے ڈپٹی میئر یانگ وائے نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اقتصادی روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لاؤڈی اور گجرات کے درمیان سسٹر سٹی معاہدے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے چائے پر مدعو کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے وفد کو پنجاب میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور صنعتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات اور لاؤڈی سٹی کے درمیان سسٹر سٹی معاہدے کے تحت چینی کمپنیاں گجرات میں سرمایہ کاری کریں گی، جس سے نئی صنعتوں کے قیام اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ دونوں ممالک کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا عملی مظہر ہے۔











