بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاق ہر ممکن وسائل فراہم کرے گا، تمام صوبوں کی مساوی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے،وزیراعظم شہباز شریف

7

اسلام آباد،24جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی طرف سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کےلئے بھرپور وسائل کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ   تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرے گا،کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک کا 300 ارب روپے کا منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوجائے گا بلوچستان کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم میں 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جا رہا ہے جبکہ دہشت گردی کے چیلنج سے مل کر نمٹنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعہ کو یہاں ’’ بلوچستان نیشنل ورکشاپ‘‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے بلوچستان کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے بہادر بلوچ اور پختون عوام نے قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا1947،میں بلوچستان کی کئی ریاستوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی،1948میں دیگر ریاستوں کے   بلوچ پختون قبائلی رہنماؤں نے بھی آگے بڑھ کر قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت کو تسلیم کیا اور پاکستان کا حصہ بنے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان نے ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی قیادت نے ہمیشہ وفاق کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں دور دراز علاقوں کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں، اسی لیے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا مالی حق بڑھایا گیا، جس میں دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، نے رضاکارانہ طور پر اپنا حصہ ڈالا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں کسانوں کو کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا تھا ان کے اور بھی مسائل تھے جن کو حل کرنے کےلئے تقریباً 27 ہزار ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا،75 ارب روپے کے اس منصوبے میں 50ارب روپے وفاق نے فراہم کئے، اسی طرح کراچی سے چمن تک این 25 جسے خونی سڑک کہا جاتا تھا اور روزانہ حادثات ہوتے ہیں ، اس دیرینہ مطالبے کو پوراکرنے کےلئے گزشتہ برس تیل کی قیمت میں کمی کی مد میں جمع ہونے والی رقم   سے کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک بنانے کا فیصلہ کیا، 300 ارب روپے کا یہ منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوگاتو اس خونی سڑک کو امن کی سڑک قرار دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرے گااگر ایک صوبہ زیادہ ترقی کرتا ہے اور باقی صوبے پیچھے رہ جاتے ہیں تو یہ ملکی ترقی نہیں ہوتی ، ترقی کی دوڑ میں چاروں صوبوں کی یکساں کاوشوں کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔وزیراعظم نے مستونگ کے سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت کواندوہنا ک سانحہ قرار دیتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور اہلخانہ کےلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

وزیراعظم نے سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اور وہ وسائل فراہم کررہا ہے اس میں اور بھی عوامل شامل ہیں ،18-2017میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا، اس چیلنج کا سب نے مل کر مقابلہ کرنا ہوگا، جبکہ افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ عسکری اور سفارتی کامیابیوں سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چاروں صوبے اور پوری قوم مل کر ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ بعد ازاں ورکشاپ میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں وزیراعظم نے شرکا کے سوالات کے جواب دیے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات اور شفاف نظام کے ذریعے گزشتہ سال سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 800 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔ یہ ایک بڑ ی رقم ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی ، وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو فیصلہ کرلیں کہ ہم نے ہر چیلنج اورمشکل کا مقابلہ کرنا ہے۔ جاپان اورجرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ انہوں نے محنت کے ذریعے دنیا میں اپنا پھر مقام بنایا ہے ۔ جادو منتر سے نہیں صرف محنت ، دیانت اور امانت کے ذریعے ترقی کی جاسکتی ہے۔ ہم کوششیں کررہے ہیں۔ انشاء اللہ ملکربہتری لائیں گے تاکہ تمام صوبوں کے عام عوام کےلئے گھروں کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ماضی کی غلطیوں کو سدھاریں گے اورترقی کے ثمرات چاروں صوبوں کو منتقل کریں گے۔ شفاف گورننس کے نظام کو صوبوں میں بھی رائج کریں گے۔

کچھی کینال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائرکے منصوبوں کےلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 368ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، ان میں کچھی کینال کا منصوبہ بھی شامل ہے، اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا، اس منصوبے کو پاکستان کینال کا نام دیں تو بہتر رہے گا۔

ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والی طالبہ خالدہ یوسف کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ و طالبات پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کیے، جبکہ بلوچستان کے لیے لیپ ٹاپ اور وظائف کا کوٹہ دیگر صوبوں سے زیادہ رکھا گیا ہے بلوچستان میں 9 دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں غریب اور یتیم بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں مزید وسائل مہیا کرنے ہیں ۔کوئٹہ، قلات اورچمن سمیت بلوچستان کے عام آدمی کو جب تک یہ احساس نہیں ہوگا کہ اس کی ترقی اور خوشحالی کےلئے بلوچستان کی حکومت اور وفاق ملکرپنجاب ، خیبرپختونخوا اور سندھ کی ترقی اور خوشحالی کی طرح   سوچتے ہیں   ،اس وقت تک وہ مطمئن نہیں ہوگا ۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ بلوچستان کی ترقی ، خوشحالی ، تعلیم اور علاج کےلئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، پاکستان کو دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بنائیں گے۔ ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ وزیراعظم نے گروپ فوٹو بھی ہوا۔

تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ،وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال ، وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہر کیانی   سمیت دیگربھی موجود تھے۔