اسلام آباد، 19 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا نے اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک، غذائی تحفظ، زرعی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے وسیع امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے دوطرفہ خیرسگالی کو عملی منصوبوں، تجارتی مواقع اور ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے زرعی تحقیق، جدید زرعی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو اسٹاک کی ترقی اور زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایتھوپیا کے ساتھ اپنا تجربہ اور تکنیکی مہارت شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
رانا تنویر حسین نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیجوں کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، زرعی میکانائزیشن اور ایتھوپیا میں پاکستانی زرعی مشینری و ٹریکٹرز کی ترویج کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ ملاقات میں لائیو اسٹاک کی ترقی، جانوروں کی افزائش نسل، ویٹرنری خدمات، بیماریوں کی روک تھام، ڈیری اور گوشت کی پیداوار میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر نے دوطرفہ زرعی تجارت کے فروغ اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کے لیے سینیٹری اینڈ فائٹو سینیٹری(ایس پی ایس) معیارات کے حوالے سے مؤثر رابطہ کاری اور کاروباری شعبوں کے درمیان براہِ راست روابط پر زور دیا۔
اس موقع پر زراعت و لائیو اسٹاک کے شعبے میں مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی )کے قیام کی بھی تجویز پیش کی گئی جو باقاعدہ رابطے اور تکنیکی تبادلوں کے لیے ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
ایتھوپیا کے سفیر نے زرعی تعاون کو مضبوط بنانے میں پاکستان کی دلچسپی کو سراہا اور اپنے ملک کی جانب سے زراعت، لائیو اسٹاک اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کی آمادگی کا اظہار کیا۔ دونوں جانب سے محض عمومی دلچسپی کے بجائے مخصوص منصوبوں، تکنیکی تعاون اور نجی شعبے کی شراکت داری پر مبنی نتائج حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔











