وفاقی وزیر صحت کی زیر صدارت ایچ آئی وی جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس، سرجری سے قبل اسکریننگ لازمی قرار

6

اسلام آباد، 19 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت وزارت صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسداد ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، نگرانی کے نظام، ڈیجیٹل ڈیٹا اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت صحت، گلوبل فنڈ کے ہیڈ آف گرانٹ مینجمنٹ، گلوبل فنڈ کنٹری ٹیم کی نمائندہ، عالمی ادارہ صحت، یو این ایڈز، یونیسیف اور یو این ڈی پی کے کنٹری نمائندگان سمیت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم ٹاسک فورس اور دیگر مجاز فورمز کی منظور شدہ سفارشات پر پیش رفت، انجیکشن سیفٹی، بلڈ سیفٹی، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول، عوامی آگاہی، ایچ آئی وی وائرل لوڈ ٹیسٹنگ، نگرانی و ڈیجیٹل نظام کی بہتری اور بارڈر اسکریننگ کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد چیرنے یا چھیدنے والے طبی عمل سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ لازمی یقینی بنائی جائے تاکہ صحت کی سہولیات میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں معمولی و بڑے جراحی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ پہلے ہی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو سرجری سے قبل ایچ آئی وی اسکریننگ کے نفاذ کے لیے ضروری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے غذائی معاونت کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت بھی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں تمام صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو مدعو کرنے اور صوبوں میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔

میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کرے تاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کی متحد اور بروقت نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں ایچ آئی وی سے منسلک بدنامی کے خاتمے، کمیونٹی انگیجمنٹ اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان انسداد ایچ آئی وی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ ایچ آئی وی ایک قابل روک تھام بیماری ہے اور اس کی روک تھام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

انہوں نے اجلاس میں دی گئی تمام ہدایات پر پیش رفت سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔