موسیقی اور ثقافت کے ذریعے پاکستان، ازبکستان دوستی کا جشن

6

اسلام آباد، 29 اگست ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات محض رسمی سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی عوام صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے کے مضبوط رشتوں میں بندھی ہوئی ہے ۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں ازبکستان کے یومِ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر ازبکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام خصوصی ثقافتی کنسرٹ ’’ازبکستان، پاکستان: دوستی اور بھائی چارے کی دھنیں‘‘ سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں، اعلیٰ حکام اور دیگر معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے ازبکستان کی حکومت اور عوام کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریب کا موضوع ’’دوستی اور بھائی چارے کی دھنیں‘‘ دونوں ممالک کے درمیان گہری محبت اور مضبوط تعلقات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسیقی کو کسی ترجمے کی ضرورت نہیں، یہ براہِ راست دلوں سے بات کرتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے درمیان کتنی مشترک قدریں موجود ہیں۔انہوں نے پاکستان میں ازبک فنکاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت سے پاکستانی عوام کو ازبکستان کی بھرپور ثقافت اور موسیقی کی روایات سے روشناس ہونے کا موقع ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ ثقافتی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے اور امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ورثہ، عجائب گھروں، ادب، موسیقی، فنونِ لطیفہ، روایتی دستکاریوں اور نمائشوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے دونوں ممالک کے نوجوان فنکاروں، ادیبوں اور ثقافتی ماہرین کے درمیان روابط اور تبادلوں کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں اور مشترکہ طور پر کام کر سکیں۔

وفاقی وزیر نے ثقافتی شام کے انعقاد پر ازبکستان کے سفارتخانے اور سفیر الیشر تختایف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسی تقریبات دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اپنے خطاب میں ازبکستان کے سفیر الیشر تختایف نے کہا کہ یہ تقریب ازبکستان کے عوام کی جانب سے پاکستان کے دوست عوام کے لیے ایک ’’ثقافتی تحفہ‘‘ ہے، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان گہری دوستی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہِ ریشم کے ذریعے دونوں خطوں کے درمیان صدیوں سے علم، ادب، سائنس، موسیقی اور فنون کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

سفیر نے ظہیر الدین محمد بابر کے مشترکہ تاریخی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان حالیہ ثقافتی و عوامی روابط کے فروغ کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا، جن میں اسلام آباد میں ’’تاشقند اسٹریٹ‘‘ کا نام رکھنا، بابر پارک منصوبہ اور سمرقند و اسلام آباد جبکہ ترمذ و پشاور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تعلیمی، علمی اور کھیلوں کے شعبوں میں تبادلے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ازبکستان میں اردو زبان اور تحقیق کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے پاکستان کے سرکاری دورے سے ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو نئی تحریک ملی ہے۔

سفیر تختایف نے اعلان کیا کہ رواں سال پاکستان میں ’’ازبکستان کے ثقافتی ایام‘‘ منانے کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں ازبکستان کا ایک بڑا ثقافتی وفد، نامور فنکار اور تخلیقی گروپس شرکت کریں گے اور ازبکستان کے تاریخی ورثے، روایتی فنون اور عصری ثقافت کو اجاگر کریں گے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط میں اضافے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاشقند سے لاہور اور اسلام آباد کے لیے ہفتہ وار براہِ راست پروازیں جاری ہیں جبکہ 3 ستمبر سے تاشقند اور کراچی کے درمیان بھی براہِ راست پروازیں شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ فضائی رابطے محض سفری راستے نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام، طلبہ، سیاحوں، کاروباری افراد، فنکاروں اور محققین کو جوڑنے والے پل ہیں۔

تقریب میں ممتاز ازبک فنکاروں نے موسیقی اور روایتی رقص پر مشتمل شاندار پروگرام پیش کیا۔ دلکش موسیقی کے ساتھ رنگا رنگ اور خوبصورت روایتی رقص نے حاضرین کو محظوظ کیا اور انہیں ازبکستان کی متنوع اور بھرپور ثقافتی روایات سے روشناس کرایا۔

فنکاروں نے موسیقی اور فن کے عالمگیر زبان کے ذریعے پاکستان اور ازبکستان کے عوام کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور باہمی احترام کے دیرینہ رشتوں کو خوبصورتی سے اجاگر کیا۔ ثقافتی پرفارمنسز نے دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخی و ثقافتی وابستگی اور عوامی روابط کے فروغ میں ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی اور برادرانہ تعلقات کے عزم کا اظہار کیا گیا، جبکہ سفیر الیشر تختایف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔