پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، یمن میں فوری کشیدگی میں کمی اور اقوام متحدہ کی زیرِ قیادت سیاسی عمل کی بحالی پر زور

6

اقوام متحدہ، 16 ستمبر(اے پی پی ): پاکستان نے یمن میں فوری طور پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ تنازع کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ سے علاقائی امن و استحکام، آزادیٔ نقل و حرکت،بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

 یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں کونسل کا دوبارہ اجلاس منعقد ہونا “یمن میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی سنگینی اور فوری نوعیت” کا عکاس ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہاکہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی “خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت” کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق، سعودی عرب کے اپنے علاقے کے دفاع، اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنے قومی اثاثوں کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

باب المندب کے گردونواح میں حوثی حملوں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ ایک سنگین کشیدگی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آزادیٔ نقل و حرکت اور بین الاقوامی بحری تجارت کے بلا تعطل جاری رہنے کو بڑھتا ہوا خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے متنبہ کیاکہ اہم بحری گزرگاہوں کو خطرے میں ڈالنے، ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کے بین الاقوامی تجارت، تجارتی جہاز رانی، عالمی سپلائی چینز اور توانائی کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان تنازع کے پُرامن حل کے لیے مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور ایسے جامع سیاسی تصفیے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جو یمن اور وسیع تر خطے میں پائیدار امن و استحکام کا باعث بن سکے۔