پنجاب میں صحت، جانوروں اور ماحول کے باہمی تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’ون ہیلتھ‘‘ اقدامات ناگزیر ہیں: خواجہ سلمان رفیق

3

لاہور، 15 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ انسانی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحولیاتی صحت باہم جڑی ہوئی ہیں، جبکہ پنجاب میں حالیہ سیلاب، ہیٹ ویوز اور بیماریوں کے بدلتے رجحانات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی واضح نشانیاں ہیں، اس لئے ہمیں متحد ہو کر صحت مند، مضبوط اور موسمیاتی سائنس سے ہم آہنگ پنجاب کی تعمیر کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ منگل کو انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (آئی پی ایچ) میں منعقدہ ’’ون ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ‘‘ ایونٹ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

 تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی، رکن پنجاب اسمبلی صائمہ زاہد، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عبد الحمید ملک، ایڈوائزر آئی پی ایچ پروفیسر ملازم حسین بخاری، پروفیسر شمسہ ہمایوں، ڈاکٹر سعید اختر، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر مہوش بھٹی، ڈاکٹر زبیر حمید، ڈاکٹر طارق میاں، فیکلٹی ممبران، طلباء، ڈاکٹرز اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے سے کیا گیا، جبکہ مختلف طبی ماہرین نے ’’ون ہیلتھ‘‘ کے اغراض و مقاصد اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں اس انتہائی اہم ایونٹ کے انعقاد پر انتظامیہ کو شاباش دیتے ہیں۔ آئی پی ایچ گزشتہ 127 سال سے پنجاب کے عوام کی صحت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور انہیں ’’ون ہیلتھ‘‘ کی اہم تقریب میں شرکت پر خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کی قیادت میں ڈینگی کی روک تھام کے لئے بھی بھرپور اقدامات کئے گئے، جبکہ سیلاب 2025 کے دوران محکمہ صحت، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں نے بے مثال خدمات انجام دیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں شعبہ صحت کی بہتری کے لئے بنیادی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود کی موثر نگرانی میں نئے ادارے قائم کئے جا رہے ہیں اور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نئے چلڈرن ہسپتال، کارڈیک انسٹی ٹیوٹس، کینسر ہسپتال، برن یونٹس اور میڈیکل کالجز تعمیر کئے جا رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹرز، نرسز، کنسلٹنٹس، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی ماہرین کے لئے ہزاروں نئی اسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔

 خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ آئی پی ایچ معیاری صحت کی تعلیم کے مواقع میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جبکہ نئے ڈپلومہ اور ڈگری پروگرامز متعارف کرانے کی تیاری بھی جاری ہے۔ آئی پی ایچ کے سرٹیفکیٹ کورسز صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی مہارتوں اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ آئی پی ایچ اپنے فارغ التحصیل طلباء کے لئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کورسز پر بھی کام کر رہا ہے۔ پوسٹ گریجویٹ شعبے میں پی ایچ ڈی پروگرامز ڈیزائن کئے گئے ہیں، جن میں یونیورسٹی آف لیسٹر، برطانیہ اور ملائیشیا کی ایک پارٹنر یونیورسٹی کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکتیں تربیت، تحقیق اور پنجاب کے عوام کے لئے صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں اور یہی ’’ون ہیلتھ‘‘ کی اصل روح ہے۔ ادارے نے جانز ہاپکنز یونیورسٹی سمیت قومی و عالمی اداروں کے ساتھ مفاہمتی اشتراکات بھی کئے ہیں، جو تحقیق، قیادت کی ترقی، صلاحیتوں میں اضافے اور پیشہ ورانہ تربیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

 صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت اب تک 16 ہزار سے زائد بچوں کی کروڑوں روپے مالیت کی مفت سرجریز کی جا چکی ہیں، جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے 2500 سے زائد بچوں کی سرجریز بھی شامل ہیں۔ خصوصی ڈائیلاسز پروگرام کے تحت اب تک 24 لاکھ ڈائیلاسز کئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اداروں کو ’’پارکنگ پلیسز‘‘ نہیں بننے دے گی۔ ہسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ کم کرنے کے لئے ہمیں بیماریوں سے بچاؤ اور احتیاطی اقدامات پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہمیں اپنا ڈیٹا اور تحقیق شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کے لئے اپنی ذمہ داری بھی شیئر کرنا ہوگی۔ حکومت پنجاب کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے لئے مسلسل تعاون جاری رہے گا اور وہ ’’ون ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ سینٹر‘‘ کو ترقی اور کامیابی کی جانب گامزن دیکھنے کے منتظر ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے کہا کہ حکومت پنجاب شعبہ صحت میں بہتری کے لئے کوشاں ہے، ’’ون ہیلتھ‘‘ کے لئے سب کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ون ہیلتھ کو یقینی بنانا صرف ہیلتھ پروفیشنلز کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کو بھی اس نظریے کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

 رکن پنجاب اسمبلی صائمہ زاہد نے کہا کہ وہ ون ہیلتھ کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔ ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے کہا کہ حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق معاشرے سے خطرناک بیماریوں کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ شعبہ صحت کی بہتری کے لئے کوشاں ہے۔