اسلام آباد، 30 ستمبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں اور سی پیک 2.0 کا نیا مرحلہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور علاقائی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین کا قومی دن ایک عظیم اور ناقابلِ تسخیر قوم کی ثابت قدمی، اتحاد اور لازوال جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا تاریخی موقع ہے۔
عالمی امن، استحکام اور دنیا بھر میں معاشی ترقی کے فروغ کے لیے چین کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ چین نے انسانی ترقی، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے میدانوں میں بے مثال ترقی کی ہے۔ سال 2026 پاکستان اور چین کے مشترکہ سفر اور سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا سال ہونے کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں قوموں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
پاک چین لازوال دوستی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے ہر آزمائش، زلزلے، طوفان اور سیلاب کے دوران اپنے مضبوط ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس دیرینہ دوستی اور دونوں ممالک کے عوام کے روشن مستقبل کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اب سی پیک 2.0 میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں صنعت کاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، کان کنی اور معدنیات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ زراعت کے شعبے میں پاکستان کے 1,000 زرعی گریجویٹس کی چین سے تربیت کی تکمیلی اور مزید ایک ہزار افراد کے اگلے دستے کی روانگی ہمارے نوجوانوں کے مستقبل میں ایک قیمتی سرمایہ کاری ہے۔
وزیراعظم نے چینی قول “دور دیس کا مخلص دوست فاصلوں کو سمیٹ دیتا ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال مئی میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات دیرینہ دوستی کی مضبوط تجدید تھی اور پاکستان طے پانے والی تمام مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
تقریب سے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائڈونگ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان اور چین ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں جنہوں نے گزشتہ 75 برسوں کے دوران خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے مؤثر خطاب، قومی مفادات کے دفاع اور عالمی بصیرت پر مشتمل وژن کی بھرپور تعریف کی۔











