8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا سانحہ، زخم آج بھی تازہ ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کا تقریب سے خطاب

4

مظفرآباد،8 اکتوبر(اے پی پی): وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے 8 اکتوبر 2005 کے شہدائے زلزلہ کی برسی کی مرکزی تقریب میں شرکت کی۔ شہدائے زلزلہ کی یاد میں صبح 08:52 بجے سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے یادگارِ شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے یادگار پر سلامی پیش کی۔ بعد ازاں، وزیراعظم نے تقریب میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) اور ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) کے زیرِ اہتمام لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا اور ریسکیو 1122 کی عملی مشق کا مظاہرہ بھی دیکھا۔ تقریب میں وزراء، اراکینِ اسمبلی، سیکرٹریز، سرکاری افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور اس کے اثرات کبھی دل سے مٹائے نہیں جا سکتے۔ انہوں نے زلزلہ متاثرین کی بحالی میں پاک فوج کی خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آفت کے بعد پاکستانی قوم نے جس جذبے اور ایثار کے ساتھ متاثرین کی مدد کی، وہ تاریخ میں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں دوست ممالک اور عالمی اداروں کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے، جن کے تعاون کے بغیر تعمیرِ نو کا یہ سفر ممکن نہ تھا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ زلزلے کے بعد تعمیرِ نو کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، اور اس وقت حکومت کی اولین ترجیح زلزلہ سے متاثرہ اسکولوں کی عمارات کی جلد تکمیل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر محفوظ تعمیرات نقصانات کا خطرہ بڑھاتی ہیں، اس لیے شہری عمارتیں بناتے وقت بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تعمیرِ نو کے باقی ماندہ منصوبوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے گا۔