برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

6

اسلام آباد، 21 اکتوبر (اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی برآمدات میں اضافے، صنعتی مسابقت کے فروغ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ورچوئل شرکت کی جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان، متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام اور مختلف برآمدی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری نمائندے بھی شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ برآمدات میں تنوع، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے فروغ اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت ضروری ہے۔

اجلاس میں کاروباری برادری نے برآمد کنندگان کے لیے ایگزم بینک کی اسکیم کو سراہتے ہوئے اسے برآمدی فنانسنگ میں بہتری اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے فروغ کے لیے مثبت اقدام قرار دیا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مختلف برآمدی شعبوں کے نمائندوں کو اپنے مسائل اور تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے مسائل کو تحریری شکل میں مرتب کرکے متعلقہ اداروں سے جواب اور قابلِ عمل سفارشات حاصل کی جائیں گی تاکہ ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

اجلاس میں توانائی کے اخراجات، صنعتی پیداوار، ٹیکس ریفنڈز، ڈیجیٹل انوائسنگ،بینکاری ضوابط،بین الاقوامی شپنگ، بندرگاہوں کی سہولتوں اور برآمدی ادائیگیوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ کاروباری نمائندوں نے عالمی شپنگ میں تاخیر کے تناظر میں برآمدی ادائیگیوں کی مدت میں لچک پیدا کرنے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

اجلاس میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت بڑھانے، بہتر دوطرفہ تجارتی روابط اور عالمی منڈیوں میں کاروباری مواقع کے فروغ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے ٹیکس ریفنڈز کے نظام میں بہتری اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے گیس لیوی کے طریقہ کار اور متعلقہ امور پر وضاحت پیش کی۔

گوشت اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان نے عالمی حفظانِ صحت کے تقاضوں اور خلیجی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر جام کمال خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ حکومت بیماریوں کے تدارک، بہتر افزائشِ نسل، سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس کو نجی شعبے کی قیادت میں خصوصی لائیو اسٹاک بورڈ کے قیام کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

معدنیات کے برآمد کنندگان نے کان کنی کے شعبے سے متعلق امور جبکہ سرجیکل آلات کے شعبے کے نمائندے اور سی ای او قیصر سلیم شبیر نے جدید ٹیکنالوجی،ہنرمند افرادی قوت اور صنعتی سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل آلات کی برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتی جدت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

اجلاس میں کاروباری ویزوں، بین الاقوامی معیار کے تقاضوں اور برآمدی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جام کمال خان نے کہا کہ وزارتِ تجارت مختلف شعبوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور مسائل کو یکجا کرکے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ اٹھائے گی۔ برآمد کنندگان کے مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آئندہ مشاورتی اجلاس میں متعلقہ محکموں کے جوابات اور برآمد کنندگان کے مسائل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ سفارشات کو حتمی شکل دے کر عملی پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کاروباری برادری اور متعلقہ حکام کی تعمیری شرکت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رکھے گی۔