پاکستان سائبر سکیورٹی میں عالمی سطح پر ٹاپ ٹیئر میں شامل، یہ اب محض آئی ٹی کا نہیں بلکہ قومی بقا اور طرزِ زندگی کا چیلنج ہے،وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ

11

اسلام آباد،29اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے بعد پاکستان اب سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ٹاپ ٹیئر کے صفِ اول  میں شامل ہو چکا ہے،ڈیجیٹل تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جامع سائبر سکیورٹی قانون سازی بھی آخری مراحل میں   ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور یو این ڈی پی کے  اشتراک سے منعقدہ ’’سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026‘‘ کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سائبر سکیورٹی اب محض آئی ٹی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری طرزِ زندگی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کا مشترکہ چیلنج بن چکی  ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومتی سطح پر سکیورٹی آپریشن سینٹرز (ایس او سیز)اور نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) مکمل طور پر فعال  جبکہ صوبائی سرٹس  بھی رسپانس دینے کے لیے تیار ہیں، اسی طرح پیکا  قانون میں ضروری ترامیم کے ذریعے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو مکمل خودمختار ادارہ بنایا گیا ہے تاکہ آن لائن جرائم اور شکایات پر فوری کارروائی ممکن ہو۔

 انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کے تحت نسٹ  اور نیوٹیک میں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ہائی ٹیک سائبر تربیت دی جا رہی ہے اور ہماری ایجنسیاں عالمی معیار کی صلاحیت رکھتی ہیں۔وزیر آئی ٹی نے والدین پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر، سکولز اور گھر کے ایڈریس ظاہر کرنے سے گریز کریں، 12 سے 18 سال کے بچے میٹا ورس اور آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر چائلڈ گرومنگ اور سائبر بلینگ جیسے سنگین خطرات کا شکار ہو رہے ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں خوفزدہ ہو کر انٹرنیٹ بند نہیں کیا جا سکتا بلکہ شہریوں کو زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہےجس طرح والدین پارک یا مال میں بچوں کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی ، شہریوں کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ پر کسی بھی لنک پر کلک کرنے سے پہلے رکیں اور مکمل تصدیق کریں۔