پارلیمان کو طاقتور بنانا پاکستان کے مفاد میں ہے، قومی مسائل پر اتفاق رائے سے ملکی مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہے، بلاول بھٹوزرداری

14

اسلام آباد۔29اکتوبر  (اے پی پی):پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہاہے کہ پارلیمان کوطاقتوربنانا پاکستان کے مفادمیں ہے،  پارلیمان کو فعال بنانے کے لیے صرف تقاریر کافی نہیں  بلکہ عملی شرکت بھی ضروری ہے، اپوزیشن بھی پارلیمانی عمل میں اپنا کردار ادا کرے، قومی مسائل پر اتفاق رائے پیدا  کرکے پاکستان کے مفادات کا بہتر تحفظ کیا جاسکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ قائد حزب اختلاف نے سب سے اہم بات یہ کی کہ ہمیں اس پارلیمان کو فعال بنانا چاہیے، پارلیمان سے فیصلے کروانے چاہئیں اور اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے، یہی پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم پارلیمان کو طاقتور بنائیں۔ اگر پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں، اور اگر پارلیمان اور اس کے ارکان بااختیار ہیں تو پاکستان کے عوام بھی بااختیار ہوں گے، اس حوالے سے حکومت  کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں  لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایوان کو فعال بنانے میں اپوزیشن کا کردار بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ  اگر اپوزیشن یہ کردار ادا نہیں کرے گی تو ان لوگوں کا مقصد پورا ہو جائے گا جو چاہتے ہیں کہ پارلیمان غیر فعال اور کمزور رہے اور عوام اس ادارے سے وہ فائدہ حاصل نہ کر سکیں جو انہیں حاصل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ  اگر اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت نہیں کرے گی، فنانس کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیوں میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے گی، تو اس سے پارلیمان کے کردار کو نقصان پہنچا ہے۔ اپنے عوام، اپنے حلقوں اور اپنی جماعت کی نمائندگی کرنا بھی اپوزیشن ارکان کی ذمہ داری ہے  جب آپ کمیٹیوں میں شریک نہیں ہوں گے تو آپ کے حلقوں کے مسائل اور آپ کے عوام کی آواز وہاں کیسے پہنچے گی؟۔