خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا  بی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا  دورہ، خواتین کو بااختیار بنانے اور مالی شمولیت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کی تعریف ، پروگرام کے اقدامات کے لیے بھرپور حمایت کی یقین دہانی

22

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے مستحق خاندانوں کی معاونت، خواتین کو بااختیار بنانے اور مالی شمولیت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے پروگرام کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

خاتون اول نے جمعرات کو  یہاں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے، مالی شمولیت اور ہنرمندی کی ترقی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے انہیں پروگرام کی کامیابیوں اور جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔

 ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کمزور معاشی حالات سے دوچار خاندانوں کی معاونت اور خواتین کو بااختیار بنانے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو سراہا۔انہوں نے مستحقین میں مالی  سوجھ  بوجھ  اور عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ بہتر  انداز  میں  مالی  امور سے  متعلق فیصلے کر سکیں اور  امداد  کو شفافیت اور عزت و وقار کے ساتھ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید موثر بنانے، کمیونٹی سطح پر رسائی بڑھانے کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اشتراک کے امکانات تلاش کرنے اور بی آئی ایس پی کے پروگراموں و خدمات سے متعلق آگاہی کے لیے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے زیادہ موثر استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا

سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے عالمی بینک کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق پروگرام کے ذریعے خرچ ہونے والا ہر ایک روپیہ حقیقی آمدن میں اندازاً 2.34 روپے کا اضافہ کرتا ہے۔ بی آئی ایس پی تقریباً 16 لاکھ 60 ہزار کل وقتی مساوی ملازمتوں میں معاونت کرتا ہے جن میں دو تہائی دیہی علاقوں میں ہیں جبکہ پروگرام سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 174 ارب روپے کی آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

خاتون اول کو بینظیر ہنرمند پروگرام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس کے تحت روزگار اور خود روزگار سے منسلک مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر سکھانے کے لیے 50 ہزار سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ تربیت کے شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، مہمان نوازی اور تعمیرات شامل ہیں جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور جرمن ادارے جی آئی زیڈ سمیت ترقیاتی شراکت دار اس سلسلے میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے حکومت سندھ کے تعاون سے بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذریعے فراہم کی جانے والی ہنرمندی کی تربیت کا بھی جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس پروگرام کے تحت 5 ہزار سے زائد افراد تربیت حاصل کر چکے ہیں جن میں سے 1,200 سے زیادہ افراد کو روزگار مل چکا ہے۔

سیکرٹری بی آئی ایس پی نے خاتون اول کو سوشل پروٹیکشن والٹ اقدام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 97 لاکھ سمز فعال کی جا چکی ہیں اور 93 لاکھ مستحقین اپنے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) سے منسلک ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے لین دین کر چکے ہیں۔ انہوں نے ادائیگیوں میں شفافیت اور مالی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور دو سطحی تصدیقی نظام کی اہمیت بھی اجاگر کی۔خاتون اول کو بی آئی ایس پی کی میڈیا تک رسائی میں اضافے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

 ستمبر 2024ء سے اکتوبر 2026ء کے دوران پروگرام کے فیس بک فالوورز کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ایک ہزار سے بڑھ کر 14 لاکھ ہو گئی جبکہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر بھی عوامی رابطے اور شمولیت میں اضافہ ہوا۔بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بی آئی ایس پی کی موبائل رجسٹریشن وین کا معائنہ کیا اور اس کے مختلف حصوں، سہولیات، رجسٹریشن کے طریقہ کار، آلات اور خدمات کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔

انہیں بتایا گیا کہ یہ سہولت بالخصوص دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں مستحق افراد کو پروگرام کی خدمات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔خاتون اول کو مستحقین کی دوبارہ تصدیق، معذور افراد کی معاونت، تعلیمی وظائف اور خاندانی بہبود کے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر شادی شدہ ہونے کی شرط ختم   کرکے  پہلے محروم رہ جانے والی خواتین تک امداد کی رسائی بڑھانے کو ایک اہم اقدام قرار دیا گیا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے قیام اور قومی شناختی نظام میں خواتین کی شمولیت کو آگے بڑھانے کے حوالے سے صدر مملکت آصف علی زرداری کے وژن کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2008ء میں صدر  آصف علی زرداری نے ہدایت کی تھی کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے کی خواہش مند خواتین کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہونا چاہیے۔

 اس اقدام سے لاکھوں ایسی خواتین کو قومی شناختی نظام میں شامل کرنے میں مدد ملی جن کا پہلے باقاعدہ اندراج نہیں تھا، جس سے سماجی تحفظ اور عوامی خدمات تک ان کی رسائی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں توسیع کو مالی شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار  دیتے ہوئےکہا کہ ہنرمند ی مستحق خاندانوں کے لیے پائیدار روزگار اور معاشی خودمختاری کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔دورے کے دوران خاتون اول نے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین سے ملاقات بھی کی اور ان کے تجربات سنے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مستحق خاندانوں تک امداد کی موثر فراہمی یقینی بنانے کے لیے آگاہی، شفافیت اور جوابدہی کو مزید بہتر بنایا جائے۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شازیہ مری، سینیٹر سردار الحاج محمد عمر گورگیج، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ سمیت دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔