کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کا اجلاس ، پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مزید مستحکم بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور  مارکیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری کے اقدامات کا جائزہ

14

اسلام آباد، 30 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مزید مستحکم بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، مارکیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری اور طویل مدتی مالی وسائل تک کاروباری اداروں کی رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد اور اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے مربوط حکمت عملی اور مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔

اجلاس میں مالیاتی ذرائع کے اجرا، لسٹنگ کے عمل میں سہولت اور ثانوی مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے مجوزہ شریعہ کمپلائنٹ صکوک پروگرام کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں مارکیٹ کو مزید سہل بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں قائم خصوصی ڈیسک اور ون ونڈو لسٹنگ نظام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر خزانہ نے ان سہولیات سے متعلق آگاہی بڑھانے اور مزید کاروباری اداروں کو کیپٹل مارکیٹ سے استفادہ کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں ٹیکس اور مالیاتی امور، مارکیٹ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق اصلاحاتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے مارکیٹ میں شفافیت، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور جدید مالیاتی ذرائع، بشمول گرین اور تھیمیٹک صکوک کے فروغ کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ سرمایہ کاری بینکوں، مالیاتی مشیروں اور کاروباری تنظیموں کے تعاون سے ممکنہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اجلاس میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے، بینکوں کے لیے صکوک کی تجارت میں سہولت اور پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری مارکیٹ میں رسائی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ اس ضمن میں ایم ایس سی آئی کے ساتھ رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے اگلے مرحلے میں اصلاحاتی اقدامات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور ملکی بچتوں کو پیداواری شعبوں میں بروئے کار لانا اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے اور کاروباری اداروں و سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، ٹیکس پالیسی آفس کے نمائندوں اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔