وزارت صحت اور صحت کہانی کے درمیان ٹیلی میڈیسن کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط، مزید 10 مراکز قائم کیے جائیں گے، مصطفیٰ کمال

7

اسلام آباد، 2 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے، ٹیلی میڈیسن کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں مزید 10 مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، اس نظام میں 500 نئے ڈاکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اب تک عوام کے 7 کروڑ روپے بچائے جا چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزارت صحت اور صحت کہانی کے درمیان ٹیلی میڈیسن کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ آج وزارت صحت نے ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں صحت کہانی کے اشتراک سے 10 ٹیلی میڈیسن مراکز قائم کیے گئے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 10 مراکز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور اس نظام سے منسلک ڈاکٹرز کی فیس صحت کہانی کی جانب سے ادا کی جا رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے عوام کو گھر کی دہلیز پر اچھے ڈاکٹرز سے طبی مشاورت کی سہولت میسر آ رہی ہے۔ اس اقدام سے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال کی پرانی ایمرجنسی کو آئندہ چند روز میں نئی ایمرجنسی میں منتقل کر دیا جائے گا جبکہ پرانی ایمرجنسی کی جگہ جدید ترین ٹیلی میڈیسن مرکز قائم کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور حکومت یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔