عوام کو ریلیف کی فراہمی وزیراعظم کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، مقامی ریفائنریزکے تعاون سے عوام کو سستے پٹرول کی فراہمی میں مددملے گی،  علی پرویز ملک

5

اسلام آباد،02نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے سے بچانے کے لئے مقامی ریفائنریز کے تعاون سے قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے جس کے تحت ریفائنریز ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کریں گی،خطے کی صورتحال کے پیش نظر نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا،عوام کو ریلیف کی فراہمی وزیراعظم کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستانی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ مقامی ریفائنریز نےحکومت کی درخواست پرپٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ برداشت کرنے پر اتفاق کیاجس سے حکومت کو قیمت برقرار رکھنے میں مدد ملی، اس اقدام کے نتیجے میں ریفائنریز پر ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا مالی بوجھ آئے گا۔انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ شروع ہو گیا ہے، پٹرول کی قیمت کے تعین میں سپاٹ مارکیٹ کے علاوہ لاجسٹکس، انشورنس اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، بڑے تیل بردار جہازوں کے کرایوں اور انشورنس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے حالیہ ٹینڈرز میں پریمیم میں 10 سے 20 ڈالر تک اضافہ سامنے آیاجبکہ بعد کے ٹینڈرز میں یہ پریمیم 25 سے 30 ڈالر اور اس سے بھی زیادہ ہو گیاجس کا اثر پٹرول کی قیمت پر پڑنا تھا۔وفاقی وزیر نےکہا کہ وزیراعظم کی کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عام صارف کو زیادہ سےزیادہ تحفظ فراہم کیا جائے،ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام کےعلاوہ بھی عوام کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں، وزیراعظم کے ٹیکنالوجی پر مبنی ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام سے 13 ملین سے زائد منفرد صارفین مستفید ہو رہے ہیں اور وہ جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر اپنی موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں میں پٹرول حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی ریفائنریز کے ساتھ مشاورت سےملک میں تیار ہونے والے پٹرول کی قیمت کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیاکیونکہ ملک کی پٹرول کی مجموعی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد مقامی ریفائنریز پوری کرتی ہیں جبکہ 70 فیصدضروریات درآمدات سےپوری ہوتی ہیں، حکومت ایسا کوئی غیر عملی نظام متعارف نہیں کرانا چاہتی تھی جس سے درآمدی پٹرول کی دستیابی متاثر ہو اور ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہو۔علی پرویز ملک نے کہا کہ ریفائنریز سے مشکل وقت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دینے کی درخواست کی گئی، حکومت نے انہیں خام تیل کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد فراہم کی جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی تھرو پٹ میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مقامی ریفائنریز نے حکومت کی درخواست پرجمعہ کو پٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ برداشت کیاجس سے قیمت برقرار رکھنے میں مدد ملی۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی۔وفاقی وزیر نے ریفائنریز کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل ڈیزل کے حوالے سے بھی حکومت کو ریلیف فراہم کیا۔ اسی طرح حج پیکیج کے اعلان کے بعد جنگ شروع ہونے پر حجاج کرام کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر ایوی ایشن فیول فراہم کیا گیاجبکہ فضائیہ کو بھی 30 جون تک جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر جے پی 8 ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے عام صارفین اور خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے،مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بعض خاندانوں کو اپنے والدین کے علاج کے لیے مہنگی ادویات کے بجائے جنیرک ادویات کا انتخاب کرنا پڑا جبکہ کچھ والدین نے اپنے بچوں کو نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں منتقل کر دیا، دوسری جانب حکومت کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تیل خریدنے کے لیے مالی وسائل جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے کوبہتری کی طرف لے جانے، ڈی ریگولیشن اور ریفائنری اپ گریڈیشن کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے،حکومت کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتی بلکہ مشاورت اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بحران سے قبل ریفائنریز کا کریک مارجن یا پریمیم پانچ ڈالر فی بیرل تھاتاہم موجودہ مشکل صورتحال میں بھی ان کے لئے 20 ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کی گئی ہے۔ریفائنریز اس حد کے اندر کام کریں گی تو انہیں 20 ڈالر فی بیرل پریمیم دیا جائے گاتاہم اگر مشکل وقت میں عوام پر چار گنا سے بھی زیادہ بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو مداخلت کرکے عوام کا تحفظ یقینی بنانا پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جیسے ہی مارکیٹ معمول پر آئے گی اوردرآمدی ٹینڈرز کا پریمیم دوبارہ 15 سے 20 ڈالر کی حد میں آئے گا توحکومت جلد از جلد ڈی ریگولیشن کے ماحول کی طرف واپس جانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسابقت کےذریعے ہی صارفین کو بہتر خدمات اور سستا ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نےآئی ایم ایف اور ملکی معیشت کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو عالمی منڈی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود 15 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے مشکل حالات میں کئے گئے اقدامات کو سراہیں۔وفاقی وزیر نے ریفائنریز کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا کہ کل  ان کے ساتھ  ایک نشست ہوگی جس میں ان کے تحفظات سنے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب کسی شعبے میں زیادہ منافع جمع ہو رہا ہو اور دوسری طرف عوام مشکلات کا شکار ہوں تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ کرنا حکومت کے لئے مشکل تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے تیل بردار جہاز (ویری لارج کروڈ کیریئرز) جو پہلے چند لاکھ ڈالر میں دستیاب ہوتے تھے، اب ایک ملین ڈالر سے زائد میں بھی مشکل سے دستیاب ہیں جبکہ انشورنس اور لاجسٹکس کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریفائنریز نے ڈیزل کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر خام تیل پر مبنی فارمولا طے کرنے میں تعاون کیا جبکہ حجاج کرام کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر ایوی ایشن فیول اور فضائیہ کو 30 جون تک جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر جے پی 8 فراہم کرنے میں بھی حکومت کا ساتھ دیا۔