ادویات پر 2 بارکوڈ کے نفاذ میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے پیداواری یونٹس سیل ہوں گے،مصطفیٰ کمال

7

اسلام آباد، 3 نومبر (اے پی پی ): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے 2 بارکوڈ کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ادویات کا سیریلائزیشن ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے پیداواری یونٹس سیل کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ادویات پر 9 اکتوبر کے بعد 2 بارکوڈ کے نفاذ میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، متعلقہ اداروں کے حکام اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے تقریباً 80 فیصد ادویات پر 2 بارکوڈ کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے۔اجلاس میں ادویات کا مطلوبہ ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت صحت کے مطابق مقررہ مہلت کے باوجود عمل درآمد نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے 2 بارکوڈ کے نفاذ کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔مصطفیٰ کمال نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ تقاضوں کے مطابق اپنا سیریلائزیشن ڈیٹا ہر صورت ڈریپ کو جمع کروائیں تاکہ ادویات کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔