اسلام آباد،24 فروری( اے پی پی ): اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اسلام امن ، برداشت اورانسانیت سے محبت کا درس دیتا ہےاور تفرقہ بازی اورانتہاپسندی کی نفی کرتا ہے۔ پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنے کے لیے بین مذاہب ہم اہنگی اور قومی یکجہتی ضروری ہے
اسلامک انٹر نیشنل یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں بین المذاہب ہم آئیگی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ دنیا میں پائید ار امن کے قیام کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان نے ہمیشہ دنیا میں امن کے قیام اور بین المذہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور کاوشیں کی ہیں جس کی دنیا معترف ہے ۔
اسپیکر اسد قیصرنے کہا کہ آج کا یہ سیمینار ایک ایسے موضوع پر ہو رہا ہےجووقت کی اہم ضرورت ہےاور مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں ہم آہنگی کوفروغ دے کر ہم ایک پر امن معاشرہ تشکیل دے کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پروسی ملک بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک برتا جار ہے وہ پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے جب کے دورسری جانب پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور انہیں اپنے رسم و رواج اور مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ حکومت کا رول ماڈل مدینہ کی ریاست ہے جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو مکمل مذہبی آزادی اور مساوی حقوق حاصل تھے اور کسی مذہب یا نسل سے تعلق رکھنے والوں کو دوسروں پر کو فوقیت حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب انسان دوستی اور امن کو درس دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلم آبادی 95فیصد ہے جبکہ غیر مسلم آبادی 5فیصد ہے تاہم قومی اسمبلی میں غیر مسلموں کو آباد کے تناسب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے۔
اسپیکر نے سیمینار کے کامیاب انعقاد پرسیمینار کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بین مذاہب ہم آہنگی کےاہم موضوع پر بین الاقوامی مکالموں اور کانفرنسوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کانفرنسوں کے انعقاد سے اس اہم معاملے پر شعور کو اُجارگر کرنے میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر پریریذیڈنٹ اسلامک (آئی آئی یو) یونیورسٹی احمد یوسف احمد الدرویش ، ریکٹر (آئی آئی یو) اور دیگر مقرین نے بھی خطاب کیا اور بین مذاہب ہم آہنگی کی افادیت اور اہمیت کو اُجاگر گیا۔
وی این ایس، اسلام آباد











