قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی افغانستان اور قبائلی علاقوں میں  امریکی بموں سے ماحولیاتی اثرات کا معاملہ امریکہ سے اٹھانے کی ہدایت

142

اسلام آباد، 24 نومبر(اے پی پی ):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں سینیٹر سراج الحق نے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی بم حملوں سے ماحول پر برے اثرات کا معاملہ اٹھا دیا،قائمہ کمیٹی نے وزارت خارجہ کو بموں سے ماحولیاتی اثرات کا معاملہ امریکہ سے اٹھانے کی ہدایت کر دی ،کمیٹی میں امریکہ افغانستان اور ایران کے حوالے سے تفصیلاً تبادلہ خیال بھی کیا گیا ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین مشاہد حسین سید کی زیرصدارت ہوا،اجلاس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی بموں کی وجہ سے ماحول پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں ،ڈاکٹرز کے مطابق پینتیس سال سے بموں اور زہریلی گیس کے اثرات پانی سمیت ہر چیز میں شامل ہیں ۔ پروفیسر ولی نصر نے کہا کہ یہ معاملہ امریکہ افغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے امریکہ جاپان اس حوالے سے فنڈنگ کر سکتے ہیں۔

 کمیٹی نے وزارتِ خارجہ کو بموں سے ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ امریکہ سے اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکام وزارتِ خارجہ کو کہا کہ وہ یہ معاملہ وزیر خارجہ کے علم میں لائیں،قائمہ کمیٹی امور خارجہ میں بریفنگ دیتے ہوئے ماہر عالمی امور پروفیسر ولی نصر نے کہا کہ امریکہ کو پاک بھارت تعلقات پر تحفظات نہیں بلکہ پاک چین اور ایران تعلقات پر تحفظات ہیں، امریکہ نے عراق جنگ میں تین کھرب ڈالر خرچ کئے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا، انکا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت کے بغیر افغانستان مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں ۔

ولی نصر نے کہا کہ امریکہ کشمیر اور ایل او سی معاملات کو سنجیدہ نہیں لیتا نہ ہی یو اے ای اور دیگر عرب ممالک مودی کے مسلم مخالف اقدامات پر بات کرتے ہیں۔

 اس موقع پر چئیرمین کمیٹی مشاہد حسین نے کہا کہ امریکی صدر بھارت کے دورے پر ہیں، امریکہ چین اور بھارت کے حوالے سے پالیسی دیکھنا ھو گی جبکہ شیری رحمن کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز ملک کی سیکیورٹی سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔

وی  این ایس،  اسلا م آباد

Download Video