زرعی شعبے میں جدید تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے:صدر مملکت

124

اسلام آباد ،12مارچ  (اے پی پی) :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خوراک کا تحفظ قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے، زرعی شعبے میں جدید تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کوقومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے زیر اہتمام زراعت پر قومی مکالمے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزرائ، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ افرادنے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ سپیکر اسد قیصر کو زراعت پر پارلیمانی کمیٹی بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی تھی اور ہے ، ماضی کی غلطیوں سے ہمیں سیکھنا ہوگا ،زراعت ہماری قومی معیشت کا معاملہ ہے۔انہوں نے  کہا کہ  جو قومیں خود سکیورٹی کاخیال نہیں رکھتیں وہ پریشان رہتی ہیں۔

ڈاکٹر  عارف علوی  نے کہا کہ  پاکستان میں  18.5 فیصد آبادی کا تعلق زراعت سے ہے، پیداواری لاگت بڑھنے سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوا ہے۔ بتدریج ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہو گئی ہے۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ ہم نے سڑکوں کے حوالے سے ترقی کی لیکن  کسان اپنی اجناس سٹور نہیں کر سکتا، اس طرف توجہ دینا ہو گی۔

 صدر مملکت نے کہا کہ میرے والد کی 200 سے اڑھائی سو ایکڑ اراضی گھارو میں تھی، میں جب کبھی وہاں جاتا تو پیڑ کے نیچے چار پائی بچھا کے سو جاتا وہ مجھے اب بھی یاد آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کل پیداوار کا 5 فیصد کسان کا نقصان ہو جائے تو وہ بہت متاثر ہوتا ہے۔

عارف علوی  نے  کہا کہ پانی کی بچت اور موثر استعمال کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا، دنیا میں ڈرپ اری گیشن کے استعمال سے ہم سے بہت ممالک آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کی تہذیب دنیا کی پرانی تہذیب ہے،دریاﺅں کے کنارے سے نہریں نکالنے کا نظام ترقی کرگیا ہے، ہمیں اس طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔

 انہوں نے اس کے حوالے سے تحقیق پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کپاس کے بیچ پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس میں استعمال ہونے والی موثر کرم کش ادویات اور سیڈ ڈویلپمنٹ پر توجہ دینی ہو گی۔

 صدر مملکت نے کہا کہ زراعت میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ کے شعبہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ دنیا میں آبپاشی اور دیگر زرعی امور میں روبوٹ کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔ اس طرف توجہ دے کر بھی ہم اپنی زرعی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس سے ہم زرعی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی  نے کہا کہ ان لینڈ فشریز کے ذریعے ہم بے انتہا ترقی کرسکتے ہیں ، 1999ءمیں ہماری فشریز کی ایکسپورٹ 300 ملین ڈالر تھی ، اب ہم 500 ملین ڈالر تک پہنچے ہیں جبکہ پڑوسی ملک 10 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کام کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے، حکومت امدادی قیمت کا تعین کرتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے نیشنل سکیورٹی کو یقینی بنائے کیونکہ خوراک کے تحفظ کا قومی سلامتی سے گہرا تعلق ہے۔

وی این ایس،اسلام آباد

Download Video