حکومت یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی یقینی بنا رہی ہے: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

200

لاہور،11 اپریل(اے پی پی )وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے  کہا ہے کہ حکومت یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی یقینی بنا رہی ہے۔

ہفتہ کو یہاں ماڈل ٹاﺅن سی بلاک کے قریب واقع یوٹیلیٹی سٹور کے دورہ کے دوران یوٹیلٹی سٹور میں دستیاب اشیائے خوردونوش کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کی آمد پر  اور اس کے بعد بھی یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے خوردونوش میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔

 وفاقی وزیر  نے یوٹیلیٹی سٹور میں موجود خریداروں سے اشیائے خورد و نوش کی دستیابی کے حوالے سے بات چیت بھی کی جس پر لوگوں نے سٹور میں اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے یوٹیلیٹی سٹور انتظامیہ سے اشیائے ضروریہ کی سپلائی اور ڈیمانڈ کے حوالے سے درپیش مشکلات کے بارے میں  بھی دریافت کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران  ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ مختلف وزراءاور حکومتی شخصیات روزانہ کی بنیادوں پر شہر میں موجود مختلف یوٹیلیٹی سٹورز کا دورہ کر رہے ہیں اور یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے خوردو نوش کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سنجیدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

چینی کے مصنوعی بحران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کا بحران پیدا کرنے والوں   کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔

قبل ازیں وفاقی وزیر نے گرلز ہائی سکول گوپال نگر مین فیروز پور روڈ میں پرائم منسٹر احساس کفالت سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں گفتگو کرتے ہوئے ان کا  کہنا تھا کہ  وہ یہاں حکومت کی طرف سے غریب و نادار افراد کی کفالت کےلئے قائم کئے جانیوالے سنٹر کی کارکردگی کا جائزہ لینے آئے ہیں تا کہ دیکھا جا سکے کہ اس کے ثمرات کس حد تک غریب عوام تک پہنچ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ سنٹر ز پر مستحقین کو رقوم بغیر کسی رکاوٹ دی جا رہی ہے،ملک بھر میں 17 ہزار سنٹرز بنائے گئے ہیں اور ان سنٹرز پر سماجی فاصلوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے جبکہ جو لسٹ بنائی گئی ہے اس کا ڈیٹا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لیا گیا ہے۔انہوں نے  مزیدکہا کہ 8171 کے ذریعے لوگ میسج کر کے اپنا نام درج کروا سکتے ہیں جس کے بعد نادرا مستحق لوگوں کی تصدیق کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ13 اپریل کو اہم اجلاس ہے جس میں فیصلہ ہوگا کہ کون سے شعبہ جات کھولنے ہیں ،لوگوں کی معاشی صورتحال پر بھی ہمیں سوچنا ہے لیکن فی الحال لاک ڈاون برقرار رہے گا ۔

اے پی پی/لاہور/قرۃالعین