اسلام آباد،22اپریل(اے پی پی ): وزیر برائے وزارت قومی غذائی تحفظ اور تحقیق سید فخر امام سے مشن ڈائریکٹر یو ایس ایڈ پاکستان جولی کوین نے بدھ کو یہاں ملاقات کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر نے وفد کو بتایا کہ گندم ، چاول ، مکئی ، گنا اور کپاس پاکستان کی اہم زرعی فصلیں ہیں، کپاس کی ملکی پیداوار 80 کی دہائی میں اچھی تھی لیکن گذشتہ سالوں میں پیداوار میں کمی آئی۔ تاہم پاکستان کی برآمد میں کاٹن کا حصہ 60 فیصد ہے ، موجودہ حکومت کی توجہ کاٹن کی پیداوار والے دیگر ممالک کے ساتھ معلومات اور تحقیق کے تبادلے کے ذریعہ کپاس کی فصل کے بیج کے معیار اور پیداوار کو بہتر بنانے پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین باسمتی چاول کاشت کیا جاتا ہے لیکن بین الاقوامی مارکیٹنگ میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
وفاقی وزیر نے دیگر زراعت کی مصنوعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیڑے مار ادویات کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لئے نامیاتی ( اورگینک) کاشتکاری کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سبزیوں کے بیج درآمد کرتے ہیں جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس کافی افرادی قوت موجود ہے لیکن اسکو صلاحیت کے مطابق استمعال نہیں کیاگیا۔ ہمیں کاشتکاری کے بڑے رقبے کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے کسانوں اور ٹریکٹر سمیت نئی مشینری اور تربیت کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے یو ایس ایڈ مشن کی ڈائریکٹر کو بتایا کہ گندم کی خریداری کا عمل جاری ہے اور ہمیں بارش اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے مشکل کا سامنا ہے۔ ہمیں گندم کی فصل کےلئے مزید مناسب گودام بنانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ فی الحال انکی تعداد محدود ہے ۔
قومی سیکریٹری برائے وزارت قومی سلامتی اور تحقیق نے بتایا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی گندم کی فصل کی فراہمی ، ذخیرہ اور تقسیم کے لیے سپلائی چین پر غور کرتے ہوئے پلان پر کام کر رہی ہے ۔
مشن ڈائریکٹر ، یو ایس ایڈ پاکستان نے خصوصی طور پر 19 COVID کے سلسلے میں زراعت اور فوڈ سیکٹر کی مدد کرنے کی پیش کش کی جسے وفاقی وزیر نے اس تعاون کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے زراعت کے شعبے میں بہتری لانے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے یو ایس ایڈ کی سرگرمیوں کو سراہا۔
اے پی پی/حمزہ/ھامد











