کرونا کی وجہ سے جاں بحق ہونیوالے صحافی کے خاندان کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، بیماری کی صورت میں تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی: اجمل وزیر

108

پشاور،11 اپریل(اے پی پی): خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے صحافی برادری کی عوام کو آگاہی فراہم کرنے اور کرونا وبا کی حالت میں جان کی پرواہ کیے بغیر حکومتی مشینری کے شانہ بشانہ خدمات کی انجام دہی کے اعتراف میں کسی بھی جرنلسٹ کی کرونا کی وجہ سے  جاں بحق ہونے  کی صورت میں خاندان کو دس لاکھ روپے اور بیماری کی صورت میں تمام تر اخراجات حکومت کی طرف  سے ادا کرنے کی منظوری  دے دی ہے۔

سول سیکرٹریٹ پشاور کے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے اطلاع سیل میں صحافیوں کو کرونا کے حوالے سے بریفنگ دیتے  ہوئے   اجمل وزیر کا کہنا تھا  کہ  حکومت ترجیحی بنیادوں پر کرونا کے خلاف اقدامات کر رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا حفاظتی سامان خریدا گیا ہےجبکہ پورے صوبے میں 275 قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں 18 ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔

اجمل وزیر نے بتایا کہ  صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ہائی  ڈیفنڈنسی یونٹس بنائے گئے ہیں جن میں چار سو اسی افراد کی گنجائش موجود ہے اور صوبے کے ہسپتالوں میں قائم 110 آئسولیشنز میں بھی تین ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں 583 وینٹی لیٹرز  موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بھی بڑھایا جارہا ہے۔

محکمہ  صحت کے عملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ صحت کے عملے کے بیک اپ کے لئے لوکم سکیم  متعارف کی گئی ہے جن میں نو ہزار پانچ سو افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے جن میں سپیشلسٹس، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس اسٹاف شامل ہیں  جبکہ ایمرجنسی  کے تحت چھ سو اٹھتیس ریگولر اور بارہ سو ننانوے کنٹریکٹ پر بھی ڈاکٹر بھرتی کیے گئے۔

مشیراطلاعات اجمل وزیر نے  محکمہ شہری دفاع خیبرپختونخوا کی جانب سے سینئر صحافیوں، پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس میں 1000 بوتل سینی ٹایزر 1000 مارکس اور سو عدد حفاظتی سامان بھی پریس کلب پشاور اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدور کے حوالے کیا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان حکومت کی خیبر پختونخواہ کی کرونا روک تھام کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کرونا وبا  کی اب تک صورتحال کے حوالے سے کہا کہ صوبے میں اس وقت کل کنفرم کیسز 656 ہیں جبکہ 131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ  ٹوٹل اموات کی تعداد 25 ہوگئی ہے  اور  زیرعلاج 20 مریضوں کی حالت  بھی تشویش ناک ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس وبا کو کنٹرول کرنےکے لیے بنائے گئے اقدامات پر پر عمل کریں۔  انہوں نے صحافیوں کو ہدایت کی کہ عوام کو آگاہی فراہم کرنا انکی اولین زمہ داری ہے جبکہ کسی بھی قسم کی غلطی سے بچنے کے لیے تمام تر معلومات محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ سے لی جا سکتی ہیں۔

صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے مشیر اطلاعات نے کہا کہ ان کے ہاؤسنگ ہیلتھ کارڈز، ایڈورٹایزمنٹ اور صحافیوں کے دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور انہوں نے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے حکام کو یہ مسائل فوری طور پر  حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اے پی پی/صائمہ حیات /قرۃالعین