پشاور،6 جولائی(اے پی پی): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اُن تمام قوانین جن میں دیگر محکموں کے قوانین کے ساتھ تضادات پائے جاتے ہوں کا تفصیلی جائزہ لیکر ان تضادات کو دور کرنے کیے لئے ضروری ترامیم تجویز کرکے کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کریں۔
یہ ہدایات انہوں نے پیر کو صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو مزید ہدایت کی کہ موجودہ اور سابقہ دورِ حکومت میں جتنے بھی قوانین منظور ہوئے ہیں ان کے تحت رولز کی منظوری کی صورتحال پر کابینہ کے اگلے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی جائے اور جن محکموں کے منظورشدہ قوانین کے تحت رولز ابھی تک نہیں بنے ہیں وہ محکمے جلد سے جلد ان رولز کو بنا کر کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کریں تاکہ ان قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کویقینی بنا یا جاسکے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اب تک کئے گئے موجودہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال سے بھی کابینہ کو اگلے اجلاس میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعلی نے کورونا کی موجودہ صورتحال میں معاشی سرگرمیوں کے لئے نجی ہاؤسنگ سکیم اور تعمیرات کے فروغ کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ کے شعبے کو فروغ دینے کےساتھ ساتھ زرعی زمینوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا۔
وزیراعلیٰ نے زرعی زمینوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ محکموں کو مل بیٹھ کر ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے پچھلے سال 2.10 ارب روپے کی نسبت اس سال 3.25ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے پر محکمہ معدنیات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دیگر محکموں کو بھی اس طرح کی کارکردگی دکھانی چاہیے۔
کابینہ ممبران کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔
کابینہ نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی احمد حسین کے بھائی افتخار حسین شاہ اور ایم پی اے جمشید کاکا خیل مرحوم کے علاوہ کورونا سے شہید ہونے والے تمام فرنٹ لائن ورکز کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔
وی این ایس ،پشاور











