کوئٹہ،04ستمبر (اے پی پی ): وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کا اثاثہ یہاں کی اراضی، محل وقوع اور قدرتی وسائل ہیں جن کی ترقی نجی شعبہ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعہ ممکن ہے، نجی شعبہ کو بلوچستان کی جانب راغب کرنے کے لئے زیادہ موثر، قابل عمل اور جامع حکمت عملی کی تیاری کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ترامیمی بل 2020ء سے متعلق دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا،محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کے سٹریٹیجک پلان اور ریفارمز سیل کی جانب سے اجلاس کو بل میں مجوزہ ترامیم سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب بل میں ایسی ترامیم شامل کی جائیں جن سے کسی قسم کا قانونی ابہام پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ترامیم کے حوالے سے دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت اور رہنمائی کے حصول کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی پالیسیوں کی تشکیل کی ضرورت ہے جن سے سرمایہ کار اور نجی شعبہ کو شراکت داری کے لئے دوستانہ ماحول مل سکے، اگر ہم ایک سال میں پی پی پی موڈ کے تحت تین منصوبے بھی شروع کریں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
اجلاس میں مجوزہ ترامیم کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بعض اہم فیصلے کئے گئےاور منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری اطلاعات نے شرکت کی۔











