وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام پشاور میں حلال ایکریڈیشن آگاہی سیمینار کا انعقاد

131

پشاور، 22ستمبر (اے پی پی): پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل وزرات سائنس و ٹیکنالوجی  کے زیر اہتمام  فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پی سی ایس آئی آر کے تعاون سے نے پی سی ایس آئی آر آڈیٹوریم یونیورسٹی ٹاؤن میں حلال ایکریڈیشن آگاہی سیمینار منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی سارک چیمبرآف کامرس نائب صدر حاجی غلام علی تھے۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی حاجی غلام علی نے کہاکہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور دنیا میں پاکستان کے حلال فوڈ پر اعتماد ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت انٹرنیشنل مارکیٹ پر حلال فوڈ میں برازیل چکن سپلائی، نیوزلینڈ گوشت سپلائی، ملائیشیاءاور انڈیا کا قبضہ ہے لیکن پاکستان مضبوط مسلم ملک کے باوجود حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی نے حصہ نہیں ڈالا ہے، آج دنیا میں حلال فوڈ کے ایکسپورٹ ٹریلین ڈالر میں ہے، پاکستان کے بزنس کمیونٹی حلال فوڈ کے ایس او پیز اور بین القوامی سٹینڈرڈکو فالو کرکے حلال فوڈ کے مارکیٹ میں اچھا حصہ لے سکتا ہے جس سے ملک کے ایکسپورٹ کو نئی منڈی جبکہ نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا۔ حلال فوڈ اور اس کے ایکسپورٹ بڑھانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ بزنس کمیونٹی کی مدد کرکے انٹرنیشل سٹینڈر کو فالو کرکے اس مارکیٹ میں انٹر ہوجائے، 22کروڑ آبادی والے ملک کی ایکسپورٹ 22ارب ڈالر ہے اور اگر پاکستان بزنس کمیونٹی محنت اور حلال فوڈ کے مارکیٹ کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرے تو ہمارا ایکسپورٹ ڈبل ہوسکتاہے۔

حلال فوڈ صرف گوشت اور چکن کا نام نہیں بلکہ ہمیں قوم کو بتانا ہوگا کہ بحثیت مسلمان فوڈ سمیت کاسمیٹک اور دیگر سپلائی ہونے والے اشیاءمیں کن چیزیں حلال ہے اور آج کافی چیزوں میں حرام شامل ہے ،بحثیت مسلمان ہم اپنے ملک اور دنیا میں ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے حوالہ سے آگاہی پیدا کریں۔

 اس موقع پر سیکرٹری زراعت محمد اسرار خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حلال فوڈ ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے حکومت موثر اقدامات اٹھا رہی ہے اس مقصد کے لئے ملک بھر میں حلال فوڈ آگاہی سیمینار منعقد کرانا اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

 ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل عصمت گل خٹک نے حلال پراڈکٹ کی ایکریڈیشن اور افادیت بتائے کہاکہ پاکستان کو حلال مارکیٹ میں لیڈرشپ کی طرف جاناہے کسی بھی ملک کی درآمدات بڑھانے کے لئے اس کے اجناس کا مستند ہونا ضروری ہے، حلال ایکریڈیشن سے حلال ٹریڈ پروموٹ ہورہی ہے، پاکستان حلال مارکیٹ میں لیڈرشپ کے طور پر ابھررہاہے جس سے ہماری درآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا۔

 انجینئر عمر قریشن پراجیکٹ ڈائریکٹر حلال ایکریڈیشن نے کہاکہ حلال ایکریڈیشن سے ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے، ہمارا مذہب ہمیں حلال کا حکم دیتاہے لیکن آج ہمیں ملاوٹ شدہ اشیاءدستیاب ہیں ، خاص طور پر بچوں کی خوراک میں مضر صحت چیزیں ہیں جوکہ ہماری بنیادی کمزور کررہی ہے۔

سیمینار میں حلال ایکریڈیشن کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کے حوالے سے شرکا ءکو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی اور تجارت کے فروغ میں پی این اے سی کے کردار سے شرکاءکو بھی آگاہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کے تحت قائم ادارہ پی این اے سی نے خیبر پختونخوا میں سرکاری اور نجی سطح پر ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے وفاقی حکومت کی پالیسی اور مستقبل کی منصوبہ بندی پیش کی۔ تقریب سے ڈائریکٹر جنرل پی سی ایس آئی آر فریدا للہ خان ، حلال ایکریڈیشن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر عمر قریشی ،ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدور حاجی فضل الہی، عدنان جلیل اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے وزرات سائنس وٹیکنالوجی کے پی این اے سی کی کوششوں کو سراہا۔

صوبائی سیکرٹری زراعت محمد اسرار خان، ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل عصمت گل خٹک ،حلال ایکریڈیشن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر عمر قریشی ،ڈائریکٹر جنرل پی سی ایس آئی آر فریدا للہ خان، ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدور حاجی فضل الہی، عدنان جلیل سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز و نمائندوں نے کثیر تعداد میں اس پروگرام میں شرکت کی۔