ایچ ای سی فیکلٹی کی اعلیٰ تعلیم، پیشہ وارانہ ترقی اور بھرتی کے حوالہ سے رہنمائی کی فراہمی کے لیے متعدد پروگراموں کا اجراءکر چکا ہے؛چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری

128

اسلام آباد،20اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) جامعات کی فیکلٹی کے لئے مواقع اور سہولیات پیدا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا آ رہا ہے اور اس سلسلہ میں فیکلٹی کی اعلیٰ تعلیم، پیشہ وارانہ ترقی اور بھرتی و ترقی کے حوالہ سے رہنمائی کی فراہمی کے لیے متعدد پروگراموں کا اجراءکر چکا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فیکلٹی کا معیار ہی وہ اہم عنصر ہے جس سے کسی بھی تعلیمی ادارے کے معیارکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، معیار ہی ایچ ای سی کے مختلف سکالرشپ پروگراموں اور آر اینڈ ڈی اور کوالٹی ایشورنس پالیسیوں کا بنیاری مقصد ہے، سکالرشپس پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹورل فیلوشپ، انٹیرم پلیسمنٹ آف فریش پی ایچ ڈیز اور انٹرنیشنل ریسرچ سپورٹ انیشی ایٹیو پروگرام کے تحت دیے جاتے ہیں۔ ایچ ای سی افراد اور اداروں کے لئے مختلف اسکیموں کے تحت تحقیقی گرانٹس بھی فراہم کرتا ہے۔ ایچ ای سی نے فیکلٹی کی تعیناتی کےے لئے کم از کم معیارات کا تعین کر رکھا ہے اور ایچ ای سی ان معیارات کی خلاف ورزی کے خلاف اپیلوں کو بھی دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹنیور ٹریک سسٹم معیار کے حوالہ سے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کے جزو کے طور پر شروع کیا گیا اور اس کا مقصد کارکردگی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ باصلاحیت اور قابل فیکلٹی کو سامنے لانا ہے، ٹی ٹی ایس سسٹم تحقیق اور تدریس کے شعبوں میں صحتمندانہ مقابلوں اور مسابقت کے ماحول کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2005-06ءمیں ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی تعداد 95 تھی جبکہ 2018-19ءمیں یہ تعداد 3198 تک جا پہنچی، اب تک 105 سرکاری جامعات اور ڈگری دینے والے تعلیمی اداروں نے فیکلٹی کی تعیناتی کے لئے اس سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کی گورننگ باڈی یعنی کمیشن نے حال ہی میں ٹنیور ٹریک کے قواعد میں ترامیم کی ہیں تاکہ اچھی کارکردگی پر فیکلٹی کو انعام دیا جا سکے، بین الاقوامی بہترین مثالوں کی روشنی میں اُن کے ٹینیور کے حصول کے دورانیے کو بڑھایا جائے، اُن کی کارکردگی کو پرکھنے کے لئے شفاف نظام کو اپنایا جائے ، اور سب سے بڑھ کر بہترین کارکرگی پر ٹی ٹی ایس فیکلٹی کو 35 فیصد تک ٹی ٹی ایس پریمیئم دیا جائے۔ یہ اقدامات ٹی ٹی ایس نظر ثانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اٹھائے گئے ہیںاور ان کا مقصد ٹنیور، ترقی اور بھرتی سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی طرف سے معیار میں کمی کے ذریعے اس سسٹم کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی ایس فیکلٹی کے لئے اشاعت کی ضروریات کو کم کیا جائے اور انہیں دوسرے کام یا جاب کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔ ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے ٹی ٹی ایس کا نظام برباد ہو سکتا ہے اور ایسا کرنا طلباءجو بہترین پروفیسروں سے پڑھنا چاہتے ہیں کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے مقررہ چھ سال میں ترقی کی لوازمات پورا نہ کرپانے والے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے ٹنیور کی زیادہ سے زیادہ طوالت کو 9 سال تک بڑھا دیا ہے۔ اسی طرح ایچ ای سی نے ایک علٰیحدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے تاکہ فیکلٹی کو محدود تعلیمی و انتظامی ذمہ داریاں اٹھانے کی اجازت دیتے ہوئے ٹی ٹی ایس فیکلٹی کو دیگر انتظامی تجربہ حاصل کرنے کا اہل بنایا جا سکے۔ اسی طرح بی پی ایس اسکیل پر کام کرنے والے فیکلٹی ممبران کو بھی مختلف پروگراموں کے ذریعے سہولیات فرہم کی جارہی ہیں۔
قبل ازیں ایچ ای سی نے بی پی ایس فیکلٹی کے پے سکیل میں اضافہ کیا جس کے بعد اب ایک پروفیسر گریڈ 21 افسر کو فراہم کی جانے والے مراعات حاصل کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کی طرف سے ایک اور معاملہ کو اٹھایا گیا اور زور دیا گیا کہ لوگوں کو پی ایچ ڈی کے بعد مناسب تجربے کے بغیر ترقی دی جائے۔ ایچ ای سی کی کاوشوں اورپالیسی اصلاحات کا مقصد معیار کی بہتری ، اچھی کارکردگی کی ستائش، اور سبقت پر انعام کی فراہمی ہے تاکہ تعلیم و تحقیق کے معیار میں اضافہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے ہمیشہ فیکلٹی ممبران کے جائز مطالبات کو ترجیح دی ہے اور ایچ ای سی یہ عمل جاری رکھے گا، تاہم فیکلٹی ممبران کو بھی طلباءاورمستقبل میں ملازمت دہندہ گریجویٹس کی بہتری کی خاطر لیے گئے فیصلوں کے مقاصد کا احساس کرنا چاہئے۔