سیالکوٹ7اکتوبر( اے پی پی ):ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ذیشان جاوید نے کہا ہے کہ ملک کی 70فیصدسے زائد آبادی زراعت کے پیشہ سے وابستہ ہے، اس شعبہ میں ترقی کی بے پناہ گنجائش ہے جس سے ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کو بیرون ملک برآمد کرکے ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے اور وہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب زراعت کے شعبہ کو جدیدمیں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائیگااس مقصد کے حصول کیلئے حکومت نے زراعت کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے اربوں روپے پروگرام کا آغاز کیا ہے، کاشتکارکی رہنمائی کیلئے محکمہ زراعت کے کے ماہرین کے ٹیم موجود ہیں جبکہ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے انتظامیہ بھی ہمہ وقت تعاون کیلئے تیار ہے۔ ضلع سیالکوٹ میں کاشتکاروں کے مسائل کے حل اور زرعی پیدوار میں اضافہ کو یقینی بنانے کیلئے ضلع اور تحصیل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور ہر ماہ کم از کم2اجلاس منعقد کئے جائیں ۔ یہ بات انہوں نے محکمہ زراعت توسیع سیالکوٹ کے زیر اہتمام انوار کلب آڈیٹوریم میں قومی منصوبہ برائے دھان کے تحت ” میگا فارمز ڈے “پر آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہاکہ فصل کی باقیات کو جلانے سے سموگ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس سموگ کی وجہ سے ہر سال درجنوں افراد حادثات کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کاشتکاروں کو کہاکہ فصل کی باقیات کو جلانے کی بجائے ان کو ختم کرنے کیلئے محکمہ زراعت کی خدمات حاصل کریں اس سلسلہ میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سلیمان اکبر، ڈائریکٹر زراعت توسیع گوجرانوالہ چودھری جاوید اقبال، ڈائریکٹر فارمز اینڈ ٹریننگ ڈائریکٹرمزمل حسین کاہلوں، ڈائریکٹر آئی پی ایم رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر ارشد مخدوم ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع عبدالسمیع طاہر، چیف ایگزیکٹیو گلیکسی رائس ملز شاہد تارڑ، ایگزیکٹیو پاکستان باسمتی فاو ¿نڈیشن عمران شیخ ، کاشتکاروں کے نمائندگان چودھری سرفراز گھمن اور چودھری باسط مصطفی آف چچر والی کے علاوہ ضلع سیالکوٹ کی چاروں تحصیلوں سے کاشتکاروں اور نمبرداران نے اجلاس میں کثیر تعداد میں شرکت کی ۔











