زندہ قومیں ریاست اور فوج کے خلاف بیانات کو تسلیم نہیں کرتیں:مولانا طاہر اشرفی

96

لاہور، نومبر 26(اے پی پی): وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ مولانا  طاہر اشرفی نے کہا کہ زندہ قومیں ریاست اور فوج کے خلاف بیانات کو تسلیم نہیں کرتیں، پاکستانی قوم اور فوج نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دی ہے۔

جمعرات کو یہاں نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں “پاکستان میں بھارت کی دہشت گردی اور ہماری حکمت عملی” کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا  کہنا تھا کہ  گزشتہ دس سالوں کے مقابلے میں ہمارے تعلقات عرب ممالک کے ساتھ بہتر ہوئے ہیں ۔ متحدہ عرب عمارت اور سعودی عرب ہمارے بھائی ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کی ہیں۔ ہمارے 8 ہزار علما اور 80 ہزار سے زائد لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ موجود حکومت نے دنیا کو بتایا ہے کہ ہندوستان صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں کر رہا  بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی بھی کر رہا جو کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کر رہی ہیں اور سب سے زیادہ فنڈز ان تنظیموں کو ہندوستان دیتا ہے اور انہیں افغانستان میں منظم کر رہا ہے۔ہم نے کوشش کی ہے  کہ پاکستان میں فساد نا ہوں، علما اور عوام کی وجہ سے حالات میں بہتری آئی ہے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کا قانون اس ملک میں امن کا ضامن ہے، ہم پوری امت کو اس پر جمع کریں گے۔انھوں نے کہا کہ سینکڑوں پاکستانی قیدی جو افغانستان میں تھے ، عمران خان کے دورے کی وجہ سے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا گیا اور عرب ممالک کے جیلوں میں قید چھوٹے مجرموں کی رہائی کی کوشش کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ آج ایک طبقہ نظریہ پاکستان کو انتہا پسندی سے جوڑنا چاہتا ہے۔یہ ریاست وہ ریاست بنے گی جس کا خواب قائد نے دیکھا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی نیت صاف ہے، اس پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام میں وقت لگے گا اور ایسی ریاست کے قیام کے لیے سب کا کردار ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان پاکستان کی بنیاد  ہے۔

طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ تمام انبیاء اور آسمانی کتابوں کے تحفظ کے قانون کی طرف جا رہے، اسلام پیار کا دین ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس ملک کے اندر کسی گرو یا جتھے کو قانون سے نہیں کھیلنے دیا جائے گا،اگر کوئی شخص گستاخی کرے گا تو اسے قانون کے مطابق دیکھے گے۔انھوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔