ملتان، 2اپریل(اے پی پی ): ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا کہ ماہ صیام میں رمضان بازار لگانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں,ضلع میں10سے زائد رمضان بازار لگائے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے رمضان بازاروں کے مقامات کا انتخاب کرنے کے لئے گزشتہ روز شہر کا دورہ کیا اور اپنے آفس میں اس حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت بھی کی۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے شہر کے دورے کے موقع پر گفتگو اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباء کے پیش نظر رش سے بچنے کے لئے کشادہ مقامات پر رمضان بازار لگائے جائیں گے،حکومت کی طرف سے جن اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دی جارہی ہےوہ رمضان بازاروں میں دستیاب ہونگی،اس کے علاوہ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو بھی رمضان بازاروں میں سٹال لگانے کے لئے جگہ فراہم کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کسان پلیٹ فارم کے تحت کاشتکار اپنی اجناس رمضان بازاروں اور سبزی منڈی میں براہ راست فروخت کر سکیں گے،اس عمل سے مڈل مین کا کردار ختم ہوجائے گا اور کاشتکار اور صارف دونوں کو فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ شہر میں ممتازآباد، مدنی چوک،شمس آباد اور گلگشت، ولائت حسین کالج،شمس آباد اور دیگر آبادیوں میں رمضان بازار لگائے جائیں گے،اس کے علاوہ مغدوم رشید،قادر پور راں،شجاع آباد اور جلالپور پیروالا میں بھی رمضان بازار لگیں گے،ایسے مقامات پر رمضان بازار لگانے سے اجتناب کیا جائے گا جہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
علی شہزاد نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ماہ صیام میں انصاف سستی موبائل شاپ بھی متعارف کرائی جائیں گی،لوڈر رکشہ رکھنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور رکشوں کی برینڈنگ کی جائے گی،انصاف سستی موبائل شاپ کو منڈی کے ہول سیل نرخوں پراشیائے ضروریہ فراہم کی جائیں گی اور ہر موبائل شاپ کو شہر کے مختلف ایریاز الاٹ کئے جائیں گے،اس کے علاوہ موبائل شاپس کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے رمضان بازاروں میں کورونا ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ رمضان بازاروں میں سیکیورٹی،صفائی اور پارکنگ کے منظم انتظامات کئے جائیں،رمضان بازاروں میں شکایات سنٹر قائم کئے جائیں جبکہ متعلقہ محکموں کے ملازمین کا ڈیوٹی روسٹر جاری کیا جائے اور مارکیٹ کمیٹی، کارپوریشن،محکمہ انڈسٹریز،زراعت،ایم ڈبلیو ایم سی اور ریسکیو کو متحرک کیا جائے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان،اسسٹنٹ کمشنرز خواجہ عمیر محمود، آبگینےخان،محمد زبیر، محکمہ زراعت اور مارکیٹ کمیٹی کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔











