اسلام آباد،14جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیرتوانائی حماداظہر نے کہا ہے کہ نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کے شعبہ کی بہتری کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، 2025 تک قابل تجدید توانائی کی پیداوار 6 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصداور 2030 تک 30 فیصد ہو جائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پاکستان میں جرمنی کے سفیر برن ہارڈ شلینگ ہیک سےملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے 81 لاکھ یورو کی جی آئی زیڈ پاکستان کی قابل تجدید توانائی اور انرجی ایفی شنسی ٹو منصوبے کے لئے معاہدے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان توانائی کے شعبہ میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی جو پاکستان میں توانائی کے شعبے بہتری کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت قابل تجدید توانائی کی پیدواری استعداد جو اس وقت 6 فیصد 2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد بڑھائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ رواں موسم گرما میں بجلی کی طلب میں 20 فیصد جبکہ صرف صنعتی شعبے کے لئے اس کی طلب میں 15 فیصد کانمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جو اس شعبے کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بجلی کی بہتر ترسیل اور تقسیم کے لئے بھی اقدامات کررہی ہے ۔
جرمنی کے سفیر نے توانائی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔











