اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی): وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہےکہ اسرائیل ، بھارت اور این ڈی ایس مل کر پاکستان کو اندر سے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، دشمن ہمارے مشرق اور مغرب دونوں طرف مسائل پیداکرنا چاہتا ہے، پاکستان سے مقبوضہ کشمیرمیں دہشت گرد بھجوانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بھارتی وزیر داخلہ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، محرم الحرام میں فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، افغانستان کی اندرونی سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، تمام سرحدیں بند ہیں،منصوبہ بندی کے تحت الزام تراشی کی جا رہی ہے، ہم امن کے لئے کوشاں ہیں، سمارٹ آئی ڈی کارڈز میں کئی مزید فیچر شامل کئے جا ئیں گے۔ منگل کو وزارت داخلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران کی ہدایات کی روشنی میں نادرا کو بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعظم کو نادرا کے دورہ کی دعوت دی جائے گی۔ وزیردخلہ نے تمام اعزاداران پرزور دیا کہ وہ این سی او سی کی ہدایات اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں ۔ اس حوالے سے تمام چیف سیکرٹریزاور آئی جیز کو بھی ہدایت کر دی ہے۔ ضرورت پڑی تو خود بھی صوبوں کے دورے کروں گا۔
انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا کے علاقوں میں تھری جی ، فور جی سروس 10 محرم تک بند رہے گی۔سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اگر کہیں اور بھی انٹرنیٹ سروسز بند کرنا پڑیں تو آگاہ کیاجائے گا۔حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پوری قوم ذمہ داری کا ثبوت دے اور ملکی سلامتی کے لئے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے ۔ ہم کسی کے عقیدے کو چھیڑیں گے نہیں اور اپنے عقیدے کو چھوڑیں گے نہیں کے اصول پر کاربند ہیں۔انہوں نے کہاکہ اعزاداران کے جلوسوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے بھارتی وزیرداخلہ کی طرف سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد بھجوانے کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہاکہ یہ جھوٹ اور غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سرحد پر باڑ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان سے کسی دہشت گرد کے جانے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ اگر بھارتی وزیر داخلہ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کریں ۔این ڈی ایس اور را پاکستان کو اندر سے نقصان پہنچانے کے لئے کوششیں کررہے ہیں کیونکہ دشمن سرحدوں سے ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ مشرق اور مغرب دونوں طرف سے ہمارے لئے مسائل پیداکرنا چاہتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری تمام ہمدردیاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی دخل اندازی نہیں ہو رہی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک سے پہلےجو 7 ملین شناختی کارڈز جاری ہوئے ان کا جائزہ لیاجائےگا ۔ جب بائیو میٹرک کا نظام نہیں تھا تو جعلی شناختی کارڈ بنتے تھے۔ ان تمام جعلی شناختی کارڈوں کو ختم کررہے ہیں اور اس میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ جعلی شناختی کارڈز بنانے میں ملوث تمام نادرا افسروں کو برطرف کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کاکام تحقیقات کرنا ہے ، ہم نے وزارت خارجہ کی موجودگی میں تحقیقات مکمل کر کے پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد کو ساری تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔
نور مقدم کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں ملزمان کے نام ای سی ایل پر ڈال دیئے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ داسو کے واقعہ کے حوالے سے بھی تحقیقاتی اداروں نے اپنا کام مکمل کر لیاہے ۔ ہمارے اداروں کے ذمے جو کام تھا وہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ، بھارت ،این ڈی ایس سمیت پاکستان دشمن ادارے مل کر جو کوششیں کررہے اور جس طرح باہر کے میڈیاسے مل کر افغانستان کے حالات کاملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں انہیں شکست ہو گی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 سے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے ۔ہم امن کے داعی ہیں۔ افغانستان کی اندرونی سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔افغانستان کی سلامتی پاکستان کی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں منصوبہ بندی کے تحت الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تمام سرحدیں سیل ہیں۔ چمن کے ذریعے جو پھلوں کی درآمد برآمد بھی بند ہے۔ افغانستان کامسئلہ افغانوں نے حل کرنا ہے۔ ہمارا کردار صرف امن کے لئے ہے۔ ہم نے امن کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سےسوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی جرمنی چلی گئی ہیں ۔ انہوں نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا ۔ ہم نے ان کا فون نمبر اور تفصیلات مانگی ہیں جو ہمیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ہم نے انہیں وزارت خارجہ کے ذریعےتفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے ۔
وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم نادرہ کا دورہ کریں گے اور سمارٹ آئی کارڈز کا اجرا کیا جائے گا جس میں ڈرائیونگ لائسنس، اسلحہ لائسنس سمیت ضروری فیچرز شامل ہوں گے۔ سمارٹ آئی ڈی کارڈز کے حامل شہریوں کی مختلف قسم کے باقی کارڈز رکھنے سے جان چھوٹ جائے گی۔ نادرا سے وراثتی سرٹیفکیٹس کا ا جرا ء موجودہ حکومت کا بڑا کارنامہ ہے ۔ ویکسی نیشن مکمل کرانے والوں کے کوائف بھی نادراکے ڈیٹا میں شامل کئے جائیں گے۔











