فیصل آباد۔10اگست (اے پی پی):صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امورپنجاب اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ پاکستان میں 11اگست کو قومی اقلیتی دن منایا جانابانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی11اگست کو بطور گورنر جنرل دستور ساز اسمبلی سے خطاب کی یاد دہانی کراتا ہے جس میں انہوں نے وعدہ کیاتھا کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا اورتمام شہریوں کو برابر مساوی حقوق حاصل ہونگے جس کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ ملک میں جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی و نکاح کی روک تھام کیلئے بھی قانون سازی اشد ضروری ہے کیونکہ پہلے سندھ میں سب سے زیادہ مذہب کی جبری تبدیلی کروائی جاتی تھی مگر اب یہ کام پنجاب میں بھی شروع ہو گیا جو بہت بڑا مسئلہ ہے لہٰذاہم جہاں جہاں موجود ہیں ہمیں اپنے حقوق کی کوشش کرنی چاہیے۔منگل کے روز ایسوسی ایشن آف وومن فار اویئرنیس اینڈ موٹیویشن (عوام تنظیم) کے زیر اہتمام نیشنل مینارٹی ڈے کے حوالے سے قائداعظم ہال ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دن کے حوالہ سے ہم مل بیٹھ کر اپنی خوبیوں اور خامیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 11 اگست کو جب قائد اعظم محمد علی جناح نے تقریر کی تو وہ اس وقت اقلیت میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم نے اپنے اندر موجود ان مجرموں کی نشاندہی نہ کی جو ہمارے حقوق کی بات حکومتوں تک نہ پہنچا سکے تو بات نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی پی پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ووٹ تو دئیے لیکن ان سے اقلیتوں کے حقوق پر بات نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج بلاول کہتا ہے کہ وزیر اعظم اقلیتی برادری سے ہونا چاہیے تو اس کو یاد کرنا چاہیے کہ اس کے نانا نے آئین میں اقلیتوں کے ساتھ کیا کیا لہٰذایہ سب باتیں ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ مذہب کی جبری تبدیلی کروائی جاتی ہے جو بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں میں اپنے چرچ کے قانون پر بھی بات کریں گے جس میں 13 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی جائز قرار دی گئی ہے اور یہ قانون 1872سے چلا آرہا ہے جو آج تک تبدیل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو الزام دینے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ مشنری اداروں اور کنیئر ڈ کالج سے کوٹہ کی بات کیوں نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ مذہب میں جبری تبدیلی کے سلسلے میں ہمارے ہاں اخلاقی پہلو زیادہ کار فرما ہے کیونکہ اکثر اوقات ہماری بچیاں خود اپنی مرضی سے شادی کر لیتی ہیں اور الزامات ریاستی اداروں پر دھر دیئے جاتے ہیں اسلئے ہم جہاں جہاں موجود ہیں ہمیں اپنے حقوق کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت اور اکثریت دونوں کو مسائل کا سامنا ہے اسی لئے اس سلسلہ میں ریاست، سول سوسائٹی اور چرچ تینوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پی ٹی آئی کی حکومت میں آج تک یوحنا آباد جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم حال ہی میں مندر پر حملہ کا جو واقعہ ہوا اس سلسلہ میں 100 سے زائد لوگوں کو اب تک پکڑا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے پہلی دفعہ مذہب کی جبری تبدیلی پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ایجوکیشن اور ملازمتوں میں اقلیتی کوٹہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوٹہ تو مختص ہوتا ہے لیکن متعلقہ سیٹوں کیلئے ہمارا کوئی بچہ ہی موجود نہیں ہوتا اس طرح 70 فیصد سیٹیں خالی چلی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عنقریب 19 ہزار سیٹیں اوپن کریں گے جبکہ ہم نے پیف کے ساتھ مل کروظائف کیلئے 18 کروڑ روپے کے فنڈز رکھے ہیں اس کے علاوہ فارن سٹڈی کیلئے بھی عنقریب فنڈز رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے کچھ نہ کچھ مسائل ہر جگہ موجود رہتے ہیں حتیٰ کہ امریکہ میں بھی کالے اور گورے کا فرق آج بھی موجود ہے لہٰذا ہیومن رائٹس وائلیشن کو 100 فیصد مہذب ترقی یافتہ دنیا میں بھی نہیں روکا جا سکا۔











