صوبہ میں 132 زرعی منڈیوں کو آپس میں لنک کیا جا رہا ہے، وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی

53

 

لاہور،02اگست (اے پی پی): کاشتکاروں کو اُن کی محنت کا معقول معاوضہ دلانے کے لئے زرعی منڈیوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ اصلاحات سے منڈی کے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہوں گے اور منڈیوں کے مسائل میں کمی آئے گی۔ صوبہ میں 132 زرعی منڈیوں کو آپس میں لنک کیا جا رہا ہے۔ صوبہ بھر میں 105 زرعی منڈیوں میں کسان پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں کسان براہ راست اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہاروزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے بادامی باغ فروٹ منڈی کے دورے کے دوران کیا ۔

انہوں نے کہا کہ  اینڈرائیڈ ایپلکیشن” منڈی ایپ” کے ذریعے مارکیٹ فیس وصولی کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے، مڈل مین کا کردار محدود کیا جارہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو اُن کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔ منڈیوں میں مارکیٹ فیس کا شیڈول،کمیشن اور روزانہ کے نرخ واضح جگہوں پر آویزاں کیئے جا رہے ہیں۔

 وزیرزراعت پنجاب نے کہا کہ پامرا ایکٹ کے نافذ العمل ہونے کے بعدزرعی منڈیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز مستفید ہوں گے، لکھوڈیرہ میں 5 ارب روپے کی خطیر رقم سے براعظم ایشیاء کی جدید ماڈل منڈی کی تعمیر کاکام جاری ہے  صوبہ بھر میں ماڈل منڈیوں میں صفائی ستھرائی کے  مکمل انتظامات کئے گئے ہیں اورروزانہ کے آکشن کی بنیاد پر نرخ وضع کئے جارہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پامرا محسن شاکر، چئیرمین بادامی باغ منڈی ملک ندیم اسحاق،صدر بادامی باغ منڈی قیصر سجاد بھٹی اور نائب صدر چوہدری ارسلان ظہیر بھی اس موقع پر موجودتھے۔