وزیراعظم سے بڑے برآمد کنندگان کے وفد نے ملاقات کی،برآمد کنندگان نے وزیراعظم کی پالیسی کو سراہتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا،معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی پریس کانفرنس

32

اسلام آباد۔2اگست  (اے پی پی): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے  وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے بڑے برآمد کنندگان کے وفد نے ملاقات کی، ان برآمد کنندگان میں روایتی اور غیر روایتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں میں برآمدات کی صلاحیت ہے لیکن یہ برآمدات نہیں ہو رہی تھیں۔ برآمد کنندگان نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کو سراہتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

 معاون خصوصی نے کہا کہ  برآمد کنندگان نے وزیراعظم کو اپنے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ان کے مسائل سنے اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت برآمد کنندگان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر ہر ماہ برآمد کنندگان کے مسائل سنیں گے جبکہ وزیر خزانہ ہر پندرہ دن بعد برآمد کنندگان سے ملاقات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کیلئے بڑے برآمدی اہداف رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار موٹر سائیکل بنانے والے 5 بڑے ممالک میں ہوتا ہے اور یہ جلد چوتھے نمبر پر آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے بعد دنیا میں چینی کی قیمتیں 56 فیصد بڑھی ہیں، دنیا میں اشیاء کی قیمتیں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی کے کارٹلائزیشن کیخلاف لڑ رہے ہیں، اس سال چینی کی پیداوار کم ہونے کے باوجود دوگنا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، گزشتہ سال چینی کی مد میں 15 ارب ٹیکس اکٹھا کیا گیا جبکہ رواں سال 29 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ ماضی میں روایت رہی ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ قیمتیں بڑھنے پر پیسہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں زرعی شعبہ کو نظر انداز کیا گیا جس شرح سے آبادی میں اضافہ ہوا اس شرح سے خوراک کی پیداوار پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 1100 ارب روپے شوگر مافیا سے نکال کر کسانوں کو دیئے۔ کسانوں نے اضافی رقم سے موٹر سائیکل اور ٹریکٹر خریدے۔