اسلام آباد،9اگست (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا میں جدت کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، پاکستان ترقی کی منازل جلد طے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اس مقصد کے لئے ڈیجیٹلائزشن سے متعلق بروقت فیصلوں اور تیاریوں کے ذریعے جدت پر مبنی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
وہ پیر کو یہاں ایوان صدر میں ڈیجیٹل گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کر رہے تھے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پالیسی کے ماہرین کے علاوہ گوگل کلائوڈ کے حکام نے بھی سنگاپور سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے اشتراک سے منعقد کی گئی اس ڈیجیٹل سمٹ میں پبلک سیکٹر کیلئے گوگل سے چلنے والی جدید ٹیکنالوجیز کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن سے ہم آہنگ ہو کر پاکستان ترقی کی منازل جلد طے کر سکتا ہے،ترقی پذیر ممالک جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے تعلیم کے نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں، کورونا وبا کے دوران بندشوں کے باعث تعلیم کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے جدید مواصلاتی ذرائع کو بروئے کار لایا گیا، اس صورتحال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا دور آ رہا ہے جس میں انفارمیشن لامحدود ہو گی، معلومات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ انسان بغیر ٹیکنالوجی کے اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے باعث باہمی رابطے زیادہ بہتر ہوئے اور دنیا گلوبل ورلڈ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باعث جدت کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے تاہم اس دور جدید میں ڈیٹا سکیورٹی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل میں فیصلہ سازی کے عمل میں ڈیٹا کے تجزیے کا اہم کردار ہو گا، اس مقصد کے لئے مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملکوں نے ترقی کی ہے ان کا انحصار ٹیکنالوجی پر زیادہ ہے، پاکستان بھی دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے بہت جلد ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس مقصد کے لئے سمارٹ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کی وبا کے دوران سمارٹ فیصلہ سازی کی کامیاب مثال قائم کی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے ڈیجیٹل پاکستان کے حوالہ سے موجودہ حکومت کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت بلاک چین ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت ، صنعتی مسائل کے حل اور سمارٹ سٹیز کی تعمیر جیسے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کیلئے گوگل کلائوڈ اور ٹیک ویلی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 لاک ڈائون کے چیلنج کو امکان میں تبدیل کرنے کیلئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے صحت، تعلیم اور فنانس میں رابطے کی سہولت کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 10 کروڑ افراد براڈ بینڈ کی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک سپیکٹرم کی نیلامی سے ایک بلین ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں، وزارت میں 2.1 ملین ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فائیو جی سروس اگلے دسمبر میں متعارف کی جائے گی۔ اسی طرح ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی طرز کا ایک موبائل چیٹ پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ کووڈ۔19 کے بعد پاکستان میں تعلیمی نظام میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو سکولز کے ذریعے فاصلاتی نظام متعارف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبا کو فاصلاتی نظام کے ذریعے رسائی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی سہولت کیلئے گوگل کلائوڈ اور ٹیک ویلی کے ساتھ مل کر تدریسی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ شروع کرے گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ریلویز سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ گوگل کلائوڈ اور ٹیک ویلی کی متعارف کردہ سہولیات کی بنیاد پر پاکستان ریلویز کی ڈیجیٹلائزیشن کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2022 تک پاکستان ریلویز ٹیکنالوجیز ماحول دوست ، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجیکل سہولیات کی بنیاد پر منافع بخش ادارے میں تبدیل ہو جائے گا۔
گوگل کلائوڈ برائے ایشیا پیسفک کے منیجنگ ڈائریکٹر پال ولسن نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ گوگل سرکاری اداروں کو جدید حالات بالخصوص کووڈ۔19 کی صورتحال میں اقتصادی ترقی میں کیلئے معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان ملازمین اور اداروں کی بہتر کارکردگی کیلئے سرکاری شعبہ کو فعال بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں حکومت گوگل کی مہارت سے استفادہ کر سکتی ہے۔
اس موقع پر ٹیک ویلی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر فاروق نے کہا کہ گوگل کلائوڈ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پارٹنر کی حیثیت سے ان کی کمپنی ٹیکنالوجی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے جو اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیک ویلی نے اب تک 8 ہزار پروفیشنلز کو تربیت فراہم کی اور عالمی معیار کی خدمات تک رسائی ، صنعتی مسائل کے حل اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تربیت کیلئے 5 ہزار ورکشاپس کا انعقاد کیا۔











