ٹیکسوں کی تقریباً 60 فیصد رقم صوبوں کو منتقل کر دی جاتی ہے؛ چوہدری فواد حسین

23

اسلام آباد،28ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے منگل کو مقامی حکومتوں کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورننس میں سب سے بڑا مسئلہ آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد نہ ہونا ہے،اس  آرٹیکل( 140 اے )کے تحت پاکستان بھر سے ٹیکس اکٹھا ہو کر وفاق کے پاس آتا ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے 60 فیصد ٹیکس صوبوں کو چلا جاتا ہے، 23 سالوں میں صرف پنجاب کو تقریباً 2300 سے 2400 ارب روپے منتقل ہوئے، سندھ کو تقریباً 1700 ارب روپے گئے، بلوچستان کی آبادی فیصل آباد ڈویژن کی آبادی کے قریب ہے، اسے تقریباً 700 ارب روپے گئے، اسی طرح خیبر پختونخوا میں تقریباً 900 سے 1000 ارب روپے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کی سب سے بڑی مخالفت چیف منسٹرز کی طرف سے آ رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ وفاقی حکومت سے پیسہ صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد چیف منسٹر آفس میں پھنس جاتا ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز راضی ہی نہیں ہیں کہ وہ پولیس، ٹھیکیدار اور پٹواری سے اوپر سوچ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

 چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سندھ میں ایک طرف 1700 سے 1800 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں دیئے گئے لیکن کراچی میں سندھ حکومت ایک روپیہ خرچ نہیں کرتی، وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، وفاقی حکومت نے 1100 ارب روپے کراچی میں لگائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کراچی کے مسئلے کس طرح حل کئے جا سکتے ہیں، اس کا واحد حل مقامی حکومتوں کا نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت این ایف سی ایوارڈ کے تحت پیسے صوبوں کو تقسیم ہوتے ہیں لیکن صوبوں میں پرونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ ہی نہیں ہوتا، خیبر پختونخوا میں ایک نظام وضع کیا گیا لیکن باقی تینوں صوبوں میں پروونشل فائنانس کمیشن ایوارڈ نہیں ہو رہا، اس سے اضلاع کی طرف سے شکایات آتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں شہباز شریف نے این ایف سی میں ملنے والا پنجاب کا بہت بڑا حصہ صرف لاہور پر خرچ کر دیا، 260 ملین ڈالر صرف لاہور ٹرین پر لگا دیے، اس کا کرایہ بھی پورا نہیں ہو رہا، جہلم، لیہ، چکوال کے حصے کے پیسے لاہور میں دیئے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے باوجود تہران سالانہ 500 ملین ڈالر اپنے لوگوں پر خرچ کرتا ہے، اسی طرح ممبئی ایک ارب ڈالر سالانہ اکٹھا کرتا ہے۔