لاہور، 24 اکتوبر(اے پی پی): احساس پروگرام کی چئیرپرسن سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیا اور وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق احساس پروگرام کے تحت کورونا کیوجہ سے بیروزگار ہو کر معاشی مشکلات کا شکار ہونے والوں کے علاؤہ غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی مناسب کفالت کرنے کے لئے جاری سروے کا جائزہ لیا ۔
سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشترنے کہا کہ ملک گیر سروے نادرا کی معاونت سے کیا جارہا ہے اور ڈیٹا بیس تیار ہونے کے بعد امدادی پیکج کے ذریعے مستحق گھرانوں کی کفالت کی جائے گی۔
ڈاکٹر ثانیہ نے رجسٹریشن سنٹر کی ڈیسک انچارج علیزہ حسنین کرمانی، ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا سید محمد عون علی اور ڈائریکٹر یاسر سعید سے سنٹر کی کارکردگی کے حوالے سے معلومات لیں اور تمام موجود سٹاف کو ہدایت کی کہ ڈیٹا بیس کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری سے اکٹھا کیا جائے اور رجسٹریشن سنٹر میں اپنے کوائف کا اندراج کروانے کے لئے آنے والے مستحقین سے احترام اور ہمدردی سے پیش آیا جائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احساس رجسٹریشن سروے کے ذریعے ملک گیر ڈیٹا بیس تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کرتا ہوا اب لاہور پہنچ کر بہت جلد مکمل ہونے جا رہا ہے، گھر گھر سروے بھی ہوا ہے اور اب رجسٹریشن سنٹر بھی قائم کر دئیے گئے ہیں تاکہ مستحقین کے لئے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوجائے، لاہور ریجن کے آٹھ اضلاع میں 44 جبکہ ملک بھر میں 400 سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس کا قومی معاشی اور سماجی سروے بہت اہم ہے احساس کفالت احساس نشوونما احساس آمدن اور بچوں کے تعلیمی وظائف وغیرہ جیسے پروگرام اسی سروے اور ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہیں۔ گھر گھر سروے کے بعد اب رجسٹریشن سنٹرز میں قائم کردہ ڈیسکس کے بارے میں آگہی بڑھ رہی ہے اور احساس پروگرام سے استفادہ کرنے والے مستحقین کو معلوم ہے کہ رجسٹریشن اور مکمل کوائف کے اندراج کے بعد ہی انھیں مختلف اقسام کے معاشی وظائف ملیں گے، پرانے رجسٹرڈ افراد کو وظائف مل رہے ہیں جبکہ نئے رجسٹر ہونے والوں کو آئندہ دو ہفتوں میں پیسے ملنا شروع ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر ثانیہ نے مذید بتایا کہ احساس پروگرام کے لئے اب تک 260 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جن میں بہت جلد اضافہ کر دیا جائے گا اور اسی لئے سروے کیا گیا اور ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے، علاوہ ازیں احساس کموڈیٹی ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام بھی ترتیب پا چکا ہے جس کے لئے وزیر اعظم اگلے ہفتے بجٹ مختص کریں گے۔
رجسٹریشن سنٹر کے دورے کے موقع پر ڈی جی پنجاب بی آئی ایس پی ظفر جمال بھی ان کے ہمراہ تھے۔











